باصلاحیت کھلاڑیوں کی تلاش بیس بال فیڈریشن کا قابلِ ستائش قدم ہے: وائس چانسلر ڈاکٹر محمد رمضان
پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، ہر شعبے میں ایسے افراد موجود ہیں جو قدرتی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں اور اپنی محنت، لگن اور جذبے سے نہ صرف اپنا مستقبل روشن کرتے ہیں بلکہ ملک و قوم کا نام بھی بلند کرتے ہیں۔ پاکستان فیڈریشن بیس بال کی جانب سے جاری "ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام” ان نوجوانوں کے لیے ایک روشن راستہ ہے جو سہولیات کی کمی کے باعث اپنے خواب پورے نہیں کر پاتے۔ان خیالات کا اظہار وائس چانسلر ایمرسن یونیورسٹی ملتان، ڈاکٹر محمد رمضان نے آزادیٔ پاکستان اور معرکۂ حق کی مناسبت سے منعقدہ نمائشی بیس بال میچ کے موقع پر بطور مہمانِ خصوصی کیا۔
یہ میچ پاکستان فیڈریشن بیس بال کے ٹیلنٹ تلاش پروگرام کے تحت ملتان ڈویژن سے تعلق رکھنے والے نوجوان کھلاڑیوں کے درمیان کھیلا گیا۔
تقریب میں ڈائریکٹر یوتھ ٹیلنٹ پروگرام محمد جمیل کامران، سپورٹس کنسلٹنٹ ظفر شیروانی، اور کوچ حسن جمیل بھی موجود تھے۔ محمد جمیل کامران نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بیس بال میں عالمی سطح پر اپنی پوزیشن بہتر کر رہا ہے، جس کا بڑا کریڈٹ فیڈریشن کے سیکریٹری سید فخر شاہ کو جاتا ہے، جو شب و روز اس کھیل کے فروغ میں مصروف ہیں۔ یوتھ ٹیلنٹ پروگرام بھی اسی جدوجہد کا ایک اہم حصہ ہے، تاکہ نئے اور باصلاحیت نوجوان کھلاڑی سامنے آئیں۔

پاکستان نے ایشیا کپ سے دستبرداری کی خبروں کو مسترد کر دیا، شرکت حکومتی اجازت سے مشروط
انہوں نے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد رمضان کا خصوصی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ہمیشہ بیس بال کے فروغ اور کھلاڑیوں کو سہولیات کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہی کی سرپرستی کی بدولت جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی محمد علی، حسن تنویر، محمد ریان، محمد حارث ندیم، محمد حسن جمیل، ارمغان علی، بلاول، محمد عمر اور عبداللہ انجم انڈر 15 فارن ٹور میں پاکستان بیس بال ٹیم کا حصہ بننے جا رہے ہیں۔
ڈاکٹر رمضان نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ نوجوانوں کو صحت مند اور مثبت سرگرمیوں کی فراہمی کے لیے وہ اسی جذبے کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔
ادھر نمائشی میچ میں ملتان ریڈ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملتان بلیو کو 3-0 سے شکست دی۔ ملتان ریڈ کی جانب سے محمد عمر، حارث ندیم اور حسن تنویر نے ایک ایک اسکور کیا جبکہ ملتان بلیو کوئی اسکور کرنے میں ناکام رہی۔ اختتام پر شہدائے پاکستان کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی
