ٹرمپ کی اسرائیل کو غزہ پر مکمل قبضہ کی کھلی چھوٹ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اسرائیل سے متعلق متنازع بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیل غزہ پر مکمل قبضہ کرنا چاہے تو یہ اُس کا اپنا فیصلہ ہے اور امریکا اس میں رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا، ’’میری توجہ اس وقت صرف اس بات پر ہے کہ غزہ کے لوگوں کو کھانا فراہم کیا جائے۔ باقی معاملات کا فیصلہ اسرائیل کو کرنا ہے۔’’
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکا ہر سال اسرائیل کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد دیتا ہے، اور اکتوبر 2023 میں غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے یہ امداد مزید بڑھ گئی ہے۔
اقوام متحدہ کی وارننگ
اقوام متحدہ کے اعلیٰ عہدیدار میروسلاف جینچا نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے غزہ پر مکمل قبضہ کیا تو اس کے ’’تباہ کن نتائج’’ برآمد ہوں گے۔ جینچا نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق غزہ مستقبل کی آزاد فلسطینی ریاست کا لازمی حصہ ہے۔
اسرائیل کے عزائم اور فلسطینی خدشات
اسرائیل نے 2005 میں غزہ سے اپنی فوج اور آبادکار واپس بُلائے تھے، لیکن قانونی ماہرین کے مطابق اسرائیل اب بھی غزہ کی فضائی، سمندری اور سرحدی حدود پر قابض ہے۔
2023 کی جنگ کے بعد اسرائیل کی دائیں بازو کی حکومت نے غزہ میں دوبارہ بستیوں کے قیام اور فوجی موجودگی کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کئی مواقع پر فلسطینیوں کو مکمل طور پر غزہ سے بے دخل کرنے کا عندیہ دیا، جسے کئی مبصرین نسل کشی قرار دیتے ہیں۔
غزہ میں ’بھوک حقیقی‘ ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
انسانی امداد اور امریکا کا کردار
مارچ 2025 سے اسرائیل نے غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل تقریباً مکمل طور پر بند کر دی ہے۔ امریکا کی مالی معاونت سے چلنے والے GHF مراکز ہی واحد ذریعہ ہیں جہاں سے فلسطینی خوراک حاصل کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے غزہ کے لیے 60 ملین ڈالر کی امداد فراہم کی ہے، جس میں سے 30 ملین ڈالر GHF کو دیے گئے۔
انہوں نے کہا، ’’ہم نے خوراک کے لیے بہت بڑی رقم دی ہے۔ اسرائیل اور عرب ریاستیں اس خوراک کی ترسیل میں ہماری مدد کریں گی۔’’
غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے نتائج
اب تک اسرائیلی کارروائیوں میں 61,000 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں اور غزہ کا بیشتر علاقہ تباہ ہو چکا ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے ماہرین نے ان حملوں کو نسل کشی قرار دیا ہے۔
