ایلون مسک کا ایکس مودی حکومت کے خلاف عدالت پہنچ گیا

دنیاسائنس ٹیکنالوجی

ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے بھارتی حکومت کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومت آزادی اظہارِ رائے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ مقدمہ مہاراشٹرا کے شہر ستارا میں جنوری میں پوسٹ کی گئی ایک پرانی ٹویٹ سے متعلق ہے، جس میں ایک حکومتی رہنما کو ’’ناکارہ‘‘ کہا گیا تھا۔ پولیس نے اسے فرقہ وارانہ کشیدگی کا باعث قرار دے کر پوسٹ ہٹانے کا نوٹس جاری کیا تھا۔

ایکس کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام سینسر شپ کے مترادف ہے اور اس نے عدالت میں اسے چیلنج کیا ہے۔ یہ مقدمہ بھارت میں آن لائن آزادی اظہار کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق پولیس کے انسپکٹر جیتندر شاہانے نے ایک مفصل اور خفیہ نوٹس میں لکھا کہ اس پوسٹ سے ممکنہ طور پر ’’سنگین فرقہ وارانہ کشیدگی‘‘ پیدا ہو سکتی ہے، اس لیے اسے ہٹانے کی درخواست کی گئی تھی۔

مقدمے میں ایلون مسک کے پلیٹ فارم نے کہا کہ بھارت کے اقدامات غیر قانونی اور آئین کے خلاف ہیں، کیونکہ یہ سرکاری حکام کو جائز تنقید کو دبانے کے لیے وسیع اختیارات فراہم کرتے ہیں۔

جبکہ بھارتی حکومت کا موقف ہے کہ یہ طریقہ غیر قانونی مواد کا مقابلہ کرتا ہے اور احتساب کو یقینی بناتا ہے۔ بھارت نے یہ بھی کہا ہے کہ کئی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں، بشمول میٹا اور الفابیٹ (گوگل)، اس کے اقدامات کی حمایت کرتی ہیں۔

بھارت میں ’ایکس‘ کے 8 ہزار اکاؤنٹس، انسٹاگرام پر 67 لاکھ فالوورز والا مسلم نیوز اکاؤنٹ بلاک

 2023 سے بھارت نے انٹرنیٹ کی نگرانی میں اضافہ کیا ہے اور متعدد حکام کو مواد ہٹانے کے آرڈرز دینے کا اختیار دیا گیا ہے۔ حکومت نے ایک ویب سائٹ بھی متعارف کرائی ہے جس کے ذریعے سرکاری ادارے سوشل میڈیا کمپنیوں سے براہِ راست درخواستیں کر سکتے ہیں۔