خامنہ ای کو قتل کرنا سنگین غلطی تھی، اسرائیلی اپوزیشن رہنما کا اعتراف
اسرائیل کی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ اور ملک کے سابق ڈپٹی چیف آف اسٹاف یائر گولان نے ایک انتہائی اہم اور چونکا دینے والا اعتراف کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنا اسرائیل کی تاریخ کی سنگین ترین اسٹریٹیجک غلطیوں میں سے ایک تھی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ پہلے سے ہی بدترین کشیدگی کا شکار ہے اور علاقے میں امن و استحکام کے امکانات دن بدن معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔ گولان، جو اسرائیلی فوج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے کے بعد سیاست میں آئے، کا شمار اسرائیل کے تجربہ کار دفاعی اور سیاسی حلقوں میں ہوتا ہے۔ ان کا یہ بیان محض ایک سیاسی تبصرہ نہیں بلکہ ایک ایسے شخص کی رائے ہے جو عسکری حکمت عملی کو قریب سے سمجھتا ہے اور جس نے اسرائیلی دفاعی پالیسی سازی میں براہ راست حصہ لیا ہے۔
اسرائیلی اپوزیشن رہنما کا تجزیہ
ایران میں سخت گیر عناصر مضبوط ہوئے یائر گولان نے ایک نجی ٹیلی ویژن کو دیے گئے انٹرویو میں وضاحت کی کہ آیت اللہ خامنہ ای کو ہٹانے کے فیصلے نے اسرائیل کے اسٹریٹیجک مفادات کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔ بلکہ اس اقدام کے الٹے اور منفی نتائج سامنے آئے۔ ان کے مطابق خامنہ ای کے بعد ایران میں وہ عناصر زیادہ طاقتور ہوئے ہیں جو نظریاتی طور پر انتہائی سخت گیر ہیں اور جن کا رجحان تشدد اور جارحیت کی طرف کہیں زیادہ ہے۔ گولان نے اپنے تجزیے میں ایک دلچسپ اور قابل غور نکتہ اٹھایا۔ انھوں نے کہا کہ ایک طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے والا عمر رسیدہ رہنما بعض اوقات مخالف ملک کے لیے بھی ایک قسم کی اسٹریٹیجک ضمانت کا کام کرتا ہے۔ ایسا رہنما جو اقتدار کے نشیب و فراز دیکھ چکا ہو، جنگ و امن دونوں کے تجربات سے گزرا ہو، وہ عموماً زیادہ محتاط اور حساب کتاب کے ساتھ فیصلے کرتا ہے۔ اس کے برعکس نئے اور جوشیلے رہنما اکثر جذباتی اور غیر متوقع فیصلوں کی طرف مائل ہوتے ہیں جو پورے خطے کو غیر مستحکم بنا سکتے ہیں۔ اسرائیلی اپوزیشن رہنما کے اس تجزیے نے اسرائیل کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر سیاسی و دفاعی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ بہت سے ماہرین اس بیان کو اسرائیلی حکومت کی موجودہ پالیسیوں پر کھلی تنقید قرار دے رہے ہیں۔
اسرائیلی اپوزیشن رہنما کے بیان کا وسیع تر تناظر اور اثرات
یائر گولان کا یہ بیان ایسے حساس موقع پر آیا ہے جب اسرائیل اور ایران کے درمیان تعلقات کئی دہائیوں میں اپنے بدترین دور سے گزر رہے ہیں۔ آیت اللہ خامنہ ای 1989 سے ایران کے سپریم لیڈر کے عہدے پر فائز تھے اور ان کے دور میں ایران کی خارجہ پالیسی ایک خاص نہج پر چلتی رہی۔ ان کی ہلاکت کے بعد ایران میں اقتدار کی منتقلی کا عمل اور نئی قیادت کا ابھرنا پورے خطے کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کر چکا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گولان کا بیان دراصل اس وسیع تر بحث کی عکاسی کرتا ہے جو اسرائیل کے اندر ہو رہی ہے کہ آیا ہدف بنا کر دشمن ملک کی اعلیٰ قیادت کو ختم کرنا طویل مدتی مفادات کے حق میں ہے یا نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کئی بار کسی مضبوط رہنما کے خاتمے کے بعد اس کی جگہ زیادہ انتہاپسند اور ناقابل پیش گوئی قیادت ابھری ہے۔ مشرق وسطیٰ کے موجودہ حالات، فلسطین میں جاری جنگ، لبنان کی صورتحال اور یمن کے حوثی گروہ کی سرگرمیوں کے پس منظر میں گولان کا یہ بیان اسرائیلی حکمت عملی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ یہ بیان اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ اسرائیل کے اندر بھی موجودہ حکومت کی جارحانہ پالیسیوں پر تشویش اور اختلاف موجود ہے۔ واضح رہے کہ یائر گولان اس سے پہلے بھی اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت پر تنقید کرتے رہے ہیں اور انھیں اسرائیلی سیاست میں ایک آزاد اور جرات مند آواز سمجھا جاتا ہے۔ ان کا یہ تازہ بیان یقیناً اسرائیلی پارلیمنٹ اور دفاعی حلقوں میں طویل بحث کا موضوع بنے گا۔
