مولانا فضل الرحمٰن حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان ثالث بن سکتے ہیں؟
پاکستان میں حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے درمیان جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا نام ایک بار پھر سیاسی افق پر نمایاں ہو گیا ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان حالیہ سیاسی صورتِ حال پر رابطہ ہوا ہے، جبکہ پی ٹی آئی بھی مذاکرات میں ان کے ثالثی کردار کی حامی نظر آتی ہے۔ تاہم کئی اہم رکاوٹیں اس عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہیں۔
مولانا فضل الرحمٰن کا ثالثی کردار کیوں اہم ہے؟
مولانا فضل الرحمٰن پاکستانی سیاست میں ایک منجھے ہوئے کھلاڑی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا سیاسی تجربہ کئی دہائیوں پر محیط ہے اور وہ متضاد سیاسی قوتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں سے ان کے ذاتی اور سیاسی رابطے ہیں، جو انہیں ممکنہ ثالث کی حیثیت دیتے ہیں۔ گزشتہ مذاکرات کی ناکامی کے بعد دونوں فریق اس بات کے خواہاں ہیں کہ کوئی قابلِ اعتماد شخصیت درمیانی کردار ادا کرے، اور اس تناظر میں مولانا فضل الرحمٰن کا نام سب سے نمایاں ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمٰن سے حالیہ ملاقات یا رابطے میں موجودہ سیاسی بحران پر تبادلۂ خیال کیا۔ حکومت چاہتی ہے کہ پی ٹی آئی کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے تاکہ ملک کو سیاسی عدم استحکام سے نجات دلائی جا سکے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمٰن کے ثالثی کردار کو قبول کر سکتی ہے، جو ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹیں
مولانا فضل الرحمٰن کی محدودیت تاہم ماہرین اور سیاسی تجزیہ کار تین بڑی رکاوٹوں کی نشاندہی کر رہے ہیں جو مذاکرات کے عمل کو سبوتاژ کر سکتی ہیں:
اول: پارلیمانی تعداد کا مسئلہ
مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت، جمعیت علمائے اسلام (ف)، حالیہ انتخابات کے بعد پارلیمان میں اس فیصلہ کن پوزیشن میں نہیں رہی جو ماضی میں ہوا کرتی تھی۔ پارلیمانی وزن کم ہونے کی وجہ سے ان کا دباؤ اور اثر و رسوخ بھی محدود ہو گیا ہے، جو ثالثی کے عمل کو کمزور کر سکتا ہے۔
دوم: عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ
پی ٹی آئی کا اصرار ہے کہ کسی بھی سنجیدہ مذاکراتی عمل سے پہلے ان کے قائد عمران خان سے براہِ راست ملاقات کی اجازت دی جائے۔ عمران خان اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور حکومت کی جانب سے اس ملاقات کی اجازت دینا سیاسی طور پر حساس معاملہ ہے، جو مذاکرات کو آگے بڑھانے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔
سوم: اسلام آباد مارچ کا خطرہ
پی ٹی آئی کی جانب سے اسلام آباد لانگ مارچ کی دھمکی بھی مذاکرات کی فضا کو متاثر کر رہی ہے۔ حکومت کو خدشہ ہے کہ مذاکرات کی آڑ میں پی ٹی آئی اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کر سکتی ہے، جبکہ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ جب تک ان کے مطالبات نہیں مانے جاتے، دباؤ جاری رہے گا۔
آگے کا راستہ کیا ہے؟
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مولانا فضل الرحمٰن واقعی ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو انہیں پہلے ان تینوں رکاوٹوں کے حل کے لیے دونوں فریقوں کو آمادہ کرنا ہو گا۔ محض رابطے اور ملاقاتیں کافی نہیں، بلکہ ٹھوس نتائج کی ضرورت ہے۔ ماضی میں بھی ایسی کوششیں کی گئی ہیں جو بالآخر ناکام ہوئیں، اس لیے اس بار توقعات احتیاط کے ساتھ رکھنے کی ضرورت ہے۔ جنوبی پنجاب سمیت ملک بھر کے عوام سیاسی استحکام کے منتظر ہیں۔ معاشی مشکلات، مہنگائی اور بے روزگاری کے ستائے ہوئے عوام چاہتے ہیں کہ سیاسی قوتیں آپسی اختلافات حل کریں اور ملک کو آگے لے جائیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کے کردار پر سب کی نظریں لگی ہیں دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس نازک موقع پر کتنے مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ #مولانافضلالرحمٰن
