عمرہ کے نام پر انسانی اسمگلنگ، 2 لاکھ 12 ہزار پاکستانی زائرین تاحال سعودی عرب میں
پاکستان میں انسانی اسمگلنگ کا ایک انتہائی تشویشناک پہلو سامنے آیا ہے۔ رواں سال عمرہ ادائیگی کے نام پر سعودی عرب روانہ ہونے والے 2 لاکھ 12 ہزار سے زائد پاکستانی زائرین تاحال وطن واپس نہیں لوٹ سکے۔ یہ انکشاف نہ صرف متعلقہ خاندانوں کے لیے باعثِ تشویش ہے بلکہ ملک میں انسانی اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئے جرائم کی سنگینی کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
پاکستان کے مختلف ائیرپورٹس کراچی، لاہور، اسلام آباد، ملتان اور پشاور سے یہ زائرین سعودی عرب روانہ ہوئے تھے۔ ملتان انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے بھی جنوبی پنجاب کے ہزاروں افراد عمرہ کی نیت سے سعودی عرب گئے تھے، جن کی واپسی کے بارے میں ان کے لواحقین بے خبر ہیں۔ ذرائع کے مطابق بہت سے افراد کو ایجنٹوں نے عمرہ ویزے پر بھیج کر غیر قانونی طریقے سے دیگر ممالک منتقل کرنے کی کوشش کی، جبکہ بعض کو سعودی عرب میں ہی غیر قانونی کام پر لگا دیا گیا۔
انسانی اسمگلنگ کے جرائم میں ملوث ایجنٹوں کا کردار
تفتیشی ذرائع کے مطابق اس سارے معاملے کے پیچھے منظم ایجنٹ نیٹ ورک کارفرما ہے جو سادہ لوح عوام کو عمرہ کا لالچ دے کر پہلے موٹی رقم وصول کرتا ہے اور پھر انہیں سعودی عرب میں غیر قانونی حالات میں چھوڑ دیتا ہے۔ جنوبی پنجاب، بشمول ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان اور رحیم یار خان کے اضلاع، سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد اس دھوکے کا شکار ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں غربت اور بے روزگاری کے باعث لوگ فوری طور پر ایسے ایجنٹوں کی باتوں میں آ جاتے ہیں جو انہیں عمرہ کے ساتھ ساتھ روزگار کے سنہری خواب دکھاتے ہیں۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ ان کے عزیز روانگی کے بعد سے رابطہ منقطع کر چکے ہیں یا بہت کم رابطہ ہوتا ہے۔ بعض خاندانوں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کے پیارے سعودی عرب میں ہیں یا انہیں کہیں اور منتقل کر دیا گیا ہے۔
حکومتی اقدامات اور جرائم کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سیل نے اس معاملے کا نوٹس لے لیا ہے اور ملک بھر میں مشکوک ایجنٹوں کے خلاف چھان بین شروع کر دی ہے۔ وزارتِ مذہبی امور نے بھی انکشاف کیا ہے کہ غیر مستند اور غیر رجسٹرڈ ٹریول ایجنسیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ سعودی حکومت کو بھی ان پاکستانی زائرین کی تلاش اور وطن واپسی کے حوالے سے سفارتی سطح پر رابطہ کیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک عمرہ ویزوں کے اجرا اور ٹریول ایجنسیوں کے کام کاج کی سخت نگرانی نہ کی جائے، یہ جرائم جاری رہیں گے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ صرف وزارتِ مذہبی امور سے رجسٹرڈ ٹریول ایجنسیوں کے ذریعے سفر کا اہتمام کریں اور کسی بھی لالچ یا جھانسے میں آنے سے گریز کریں۔
متعلقہ ادارے لواحقین کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ اپنے گمشدہ عزیزوں کی اطلاع فوری طور پر ایف آئی اے اور پاکستانی سفارتخانہ ریاض سے متعلق حکام کو دیں تاکہ بروقت اقدام ممکن ہو سکے۔
