ملتان کی نجی یونیورسٹی کے باہر فائرنگ، طالب علم جاں بحق، متعدد زخمی

تازہ ترینملتان

ملتان میں ایک انتہائی افسوسناک اور لرزہ خیز واقعے میں شہر کی ایک نجی یونیورسٹی کے باہر اندھا دھند فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ایک طالب علم جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب یونیورسٹی کے طلبہ اپنی معمول کی علمی سرگرمیوں کے لیے ادارے میں آ رہے تھے یا واپس جا رہے تھے۔ فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی علاقے میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی اور طلبہ و طالبات ادھر ادھر بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے یونیورسٹی کے مرکزی دروازے کے قریب اچانک فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ اتنی اچانک اور شدید تھی کہ موقع پر موجود لوگوں کو سنبھلنے کا موقع نہ مل سکا۔ جاں بحق ہونے والے طالب علم کی شناخت کا عمل جاری ہے جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج معالجہ جاری ہے۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

 نجی یونیورسٹی کے باہر فائرنگ کے بعد پولیس کی کارروائی اور تحقیقات واقعے کی اطلاع ملتے ہی ملتان پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لینے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ اعلیٰ پولیس افسران نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور ابتدائی رپورٹس موصول کیں۔ پولیس کے مطابق ملزمان فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے اور ان کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر ناکے لگا دیے گئے ہیں۔

متعلقہ حکام نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ابتدائی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس حوالے سے مقدمے کے اندراج کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہر پہلو کی چھان بین کی جا رہی ہے اور جلد از جلد ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندان سے اظہار تعزیت کیا اور تحقیقات میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔

 نجی یونیورسٹی میں تعلیمی سرگرمیاں معطل

طلبہ میں خوف و ہراس اس واقعے کے بعد یونیورسٹی کی تمام تعلیمی سرگرمیاں فوری طور پر معطل کر دی گئیں اور انتظامیہ نے طلبہ کو گھر روانہ کر دیا۔ طلبہ اور ان کے اہلِ خانہ میں شدید غم و غصے کی لہر پائی جاتی ہے۔ والدین نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کے اردگرد سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات فوری طور پر یقینی بنائے جائیں تاکہ آئندہ ایسے دلخراش واقعات سے بچا جا سکے۔ جنوبی پنجاب میں تعلیمی اداروں کے قریب بڑھتے ہوئے جرائم نے شہریوں کو فکرمند کر دیا ہے۔ سول سوسائٹی اور طلبہ تنظیموں نے اس واقعے کو انتہائی تکلیف دہ اور قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ مقامی سیاسی شخصیات نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے لواحقین سے اظہار ہمدردی کیا اور انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے اور واقعے کے محرکات کا تعین ابھی باقی ہے۔ ساؤتھ ٹوڈے ملتان اس خبر کی تازہ ترین پیش رفت سے قارئین کو آگاہ کرتا رہے گا۔