ملتان میں ویزا فراڈ: ایف آئی اے نے ایک ملزم گرفتار، تین تفتیش میں شامل کر لیے
ملتان: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) ملتان نے بیرونِ ملک ملازمت اور ویزوں کے نام پر شہریوں سے لاکھوں روپے ہڑپ کرنے کے چار مختلف مقدمات میں بھرپور کارروائی کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار اور تین دیگر کو باقاعدہ تفتیش میں شامل کر لیا ہے۔ یہ تمام مقدمات دبئی کے ورک ویزے، متحدہ عرب امارات کے وزٹ ویزے اور سعودی عرب میں ملازمت کے جھانسے دے کر معصوم شہریوں سے رقم بٹورنے سے متعلق ہیں۔
ایف آئی اے کی کارروائی
چاروں مقدمات کی تفصیل ایف آئی اے ملتان کی جانب سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق پہلے مقدمے میں ملزم جبران حمید پر الزام ہے کہ اس نے شہری محمد رضوان کو دبئی کا ورک ویزا دلانے کا وعدہ کر کے 15 لاکھ 50 ہزار روپے وصول کیے۔ ملزم نے نہ تو ویزا فراہم کیا اور نہ ہی رقم واپس کرنے کی زحمت گوارا کی۔ ایف آئی اے نے ملزم کو تفتیش میں شامل کرتے ہوئے معاملے کے تمام پہلوؤں کی چھان بین شروع کر دی ہے۔ دوسرے مقدمے میں ایف آئی اے ملتان نے ملزم محمد نعمان کو حراست میں لے کر گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم نعمان پر الزام ہے کہ اس نے دبئی کا ورک ویزا فراہم کرنے کی آڑ میں متاثرہ شہری سے 5 لاکھ روپے وصول کیے، مگر نہ ویزا ملا اور نہ رقم واپس کی گئی۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد تفتیش کا عمل تیز ہو گیا ہے اور قانونی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔ تیسرے مقدمے (نمبر 422/26) میں ملزم محمد ارسلان بلوچ کو تفتیش میں شامل کیا گیا ہے۔ ملزم پر الزام ہے کہ اس نے متحدہ عرب امارات کا وزٹ ویزا دلانے کا وعدہ کر کے حمیرا ملک اور رب نواز سے مجموعی طور پر 2 لاکھ 41 ہزار 800 روپے وصول کیے لیکن ویزا فراہم نہیں کیا اور رقم بھی ہضم کر لی۔ چوتھے مقدمے (نمبر 405/26) میں ملزم راشد منہاس کو تفتیش میں شامل کیا گیا ہے۔ ملزم نے محمد ارشد سے سعودی عرب میں ملازمت کے بدلے ان کے بیٹے کو بیرونِ ملک بھجوانے کی یقین دہانی کرائی اور اس کے عوض 4 لاکھ 72 ہزار روپے وصول کیے۔ تاہم نہ بیٹا سعودی عرب گیا، نہ رقم واپس ملی۔
ایف آئی اے کا شہریوں کے لیے انتباہ اور احتیاطی تدابیر
ایف آئی اے ملتان کے تفتیشی افسران کے مطابق تمام چاروں مقدمات کی تفتیش جاری ہے اور ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ادارے نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ بیرونِ ملک روزگار کے نام پر فراڈ کی وارداتوں میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے اور عام طور پر متاثرہ افراد کا تعلق محنت کش اور متوسط طبقے سے ہوتا ہے جو روشن مستقبل کی تلاش میں اپنی جمع پونجی گنوا بیٹھتے ہیں۔ ایف آئی اے کی ہدایات کے مطابق کسی بھی ایجنٹ یا بھرتی کرنے والے ادارے کو رقم ادا کرنے سے پہلے اس کی قانونی حیثیت اور اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن یا بیورو آف ایمیگریشن سے اجازت نامے کی تصدیق کرنا ناگزیر ہے۔ ملازمت کی پیشکش کی تصدیق براہِ راست متعلقہ سفارتخانے یا قانونی ذرائع سے کی جائے۔ محض زبانی وعدوں یا دیکھی بھالی رقم پر بھروسہ کرنا مالی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ جنوبی پنجاب میں ویزا اور ملازمت فراڈ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیشِ نظر ایف آئی اے ملتان نے متاثرہ شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہراساں ہوئے بغیر ادارے سے رابطہ کریں اور فراڈ کی رپورٹ درج کروائیں تاکہ ایسے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
