بھارت میں 13 کروڑ ووٹروں کے نام لسٹ سے خارج، عالمی میڈیا میں تہلکہ

اہم خبریںتازہ ترین

بھارت میں 13 کروڑ سے زائد ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کرنے کا تنازع اب عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے اور بین الاقوامی میڈیا اداروں نے اسے اپنی شہ سرخیوں میں جگہ دینا شروع کر دی ہے۔

بھارت کی اہم تفصیلات اور پس منظر

## بھارت میں ووٹر لسٹ تنازع کا پس منظر بھارتی الیکشن کمیشن کی جانب سے حالیہ عرصے میں ملک بھر کی ووٹر فہرستوں کا جائزہ لیا گیا جس کے بعد 13 کروڑ سے زائد ووٹروں کے نام مختلف بنیادوں پر حذف کیے گئے۔ حکومتی موقف کے مطابق یہ اقدام ووٹر فہرستوں کو درست، شفاف اور جعلی اندراجات سے پاک کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ تاہم حزبِ اختلاف کی جماعتوں اور سول سوسائٹی تنظیموں نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے جمہوریت کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دیا ہے۔ بھارتی اپوزیشن جماعتوں، بالخصوص کانگریس پارٹی اور علاقائی جماعتوں کا الزام ہے کہ ہٹائے گئے ناموں میں اقلیتی برادریوں، دلتوں، پسماندہ طبقات اور حکمران جماعت کے ناقدین کی غیر متناسب تعداد شامل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابی فہرستوں میں اس پیمانے پر تبدیلی محض انتظامی اصلاح نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمتِ عملی ہے جس کا مقصد ایک مخصوص طبقے کو ووٹ کے حق سے محروم کرنا ہے۔ ## عالمی میڈیا میں بھارت کی انتخابی پالیسی پر سوالات اس تنازع نے اس وقت بین الاقوامی توجہ حاصل کی جب برطانوی، امریکی اور یورپی میڈیا اداروں نے اسے اپنی رپورٹنگ میں نمایاں جگہ دی۔ عالمی اخبارات اور نیوز ایجنسیوں نے سوال اٹھایا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے ملک میں کروڑوں شہریوں کو انتخابی عمل سے باہر کرنا کس حد تک جمہوری اقدار سے ہم آہنگ ہے۔ انٹرنیشنل پریس نے یہ بھی نوٹ کیا کہ یہ صورتحال بھارت میں جمہوری اداروں کی آزادی اور خودمختاری سے متعلق پہلے سے جاری بحث کو مزید تقویت دیتی ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ووٹر فہرست سے نام ہٹانے کے معیار اور طریقہ کار کو عوام کے سامنے شفاف انداز میں رکھے اور ان شہریوں کو اپیل کا حق دے جن کے نام غلطی سے یا غیر منصفانہ طریقے سے خارج کیے گئے ہیں۔ ## بھارت کی اندرونی سیاست اور اثرات یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں آنے والے انتخابات کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس قدر بڑے پیمانے پر ووٹروں کے نام حذف کیے جانے سے انتخابی نتائج پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ مختلف ریاستوں میں اپوزیشن کارکنان نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور عدالتوں میں درخواستیں بھی دائر کی گئی ہیں۔ بھارتی الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ یہ تمام عمل قانونی دائرے میں رہ کر کیا گیا اور جن افراد کے نام ہٹائے گئے وہ یا تو انتقال کر چکے ہیں، ایک سے زائد مقامات پر رجسٹرڈ تھے یا دیگر انتظامی وجوہات کی بنا پر اہل نہیں تھے۔ تاہم اپوزیشن اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے آزاد تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہے۔ جنوبی پنجاب سمیت پاکستان کے حلقوں میں بھی اس خبر کو دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ خطے میں جمہوری عمل اور انتخابی شفافیت کا سوال ہمیشہ سے حساس موضوع رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں اس نوعیت کے اقدامات کو چیلنج نہ کیا گیا تو یہ خطے کی دیگر جمہوریتوں کے لیے بھی منفی نظیر بن سکتا ہے۔ فی الحال یہ معاملہ بھارتی عدالتوں، پارلیمنٹ اور بین الاقوامی فورمز پر زیرِ بحث ہے اور آنے والے دنوں میں اس میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔