نادرا دفاتر میں لمبی قطاریں،کاغذات کی فوٹو کاپی،دستاویزات کی تصدیق ماضی کا قصہ
ملتان : نادرا نے شہریوں کی مشکلات کم کرنے اور سہولیات بڑھانے کے لیے اہم اصلاحات متعارف کرا دی ہیں۔ اب سرکاری دفاتر کی پہچان سمجھی جانے والی لمبی قطاریں، کاغذات کی فوٹو کاپی، اور دستاویزات کی تصدیق کے جھنجھٹ ماضی کا قصہ بن چکے ہیں۔
ہمارے نمائندے نے نادرا کے ملتان دفتر کا دورہ کیا جہاں نیا فرنٹ ڈیسک سسٹم فعال کر دیا گیا ہے۔ شہری اب داخل ہوتے ہی اپنی ابتدائی معلومات فراہم کرتے ہیں، جس کے بعد انہیں ٹوکن جاری کیا جاتا ہے۔ مرد و خواتین کے لیے الگ قطاریں بنائی گئی ہیں، جبکہ سروسز کا انتخاب شہری اپنی سہولت کے مطابق کرتے ہیں۔
نادرا دفتر میں موجود ایک شہری نے بتایا کہ:
"نہ فوٹو کاپی مانگی گئی، نہ اٹیسٹیشن۔ صرف رشتہ دار ساتھ لانا ضروری تھا، اور کام فوراً ہو گیا۔”
فنگر پرنٹس کے مسئلے کا حل — آئرس بایومیٹرک سسٹم
نادرا نے بزرگ شہریوں اور ان افراد کے لیے جن کے فنگر پرنٹس دھندلا چکے ہوں، آئرس بایومیٹرک ویریفکیشن سسٹم بھی متعارف کرا دیا ہے، جو آنکھ کی پتلی کے ذریعے شناخت ممکن بناتا ہے۔
ایک صارف نے کہا:
"بینک یا فرنچائز میں بار بار فنگر پرنٹس فیل ہوتے تھے، لیکن اب نادرا میں آنکھوں سے تصدیق ہو رہی ہے، بہت آسانی ہو گئی ہے۔”
نادرا کو جعلی پاکستانی پاسپورٹس رکھنے والے افغانوں کے شناختی کارڈ منسوخ کرنے کی ہدایت
نادرا افسر کی وضاحت
نادرا کے اسسٹنٹ ڈپٹی ڈائریکٹر نے بتایا کہ:
"اب شہریوں کو گریڈ 17 کے افسر کی اٹیسٹیشن کی ضرورت نہیں۔ اگر بلڈ ریلیٹیو ساتھ ہو، تو وہیں پر بایومیٹرک گواہی کے بعد فارم جمع ہو جاتا ہے۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ مستقبل میں آئرس سسٹم دیگر اداروں سے بھی لنک کر دیا جائے گا، تاکہ اگر کوئی شناختی کارڈ یا ڈاکومنٹس کھو بیٹھے تو صرف نمبر بتا کر بایومیٹرک کے ذریعے تصدیق ہو جائے۔
محفوظ، منظم اور ایئرکنڈیشنڈ ماحول
دفتر میں موجود خواتین اور بزرگ شہریوں نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اب یہاں مکمل نظم و ضبط، شفاف سسٹم اور ٹھنڈا، صاف ماحول فراہم کیا گیا ہے۔
اختتامیہ:
نادرا کی یہ اصلاحات یقینی طور پر شہریوں کے لیے ایک بڑی سہولت ہیں، جن سے نہ صرف وقت بچے گا بلکہ سسٹم پر عوام کا اعتماد بھی بڑھے گا۔
