کیش لیس پاکستان کی طرف بڑا قدم، 92 فیصد ریٹیل ٹرانزیکشنز ڈیجیٹل
اسٹیٹ بینک کی سالانہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان میں 14.3 ارب ریٹیل ادائیگیاں ہوئیں، جن میں 13.2 ارب ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے کی گئیں، تاہم مجموعی رقم کے لحاظ سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کا حصہ 92 فیصد رہا۔
پاکستان میں موبائل فون، بینکنگ ایپس، انٹرنیٹ بینکنگ، ای والٹس اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع سے ادائیگیوں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی تازہ سالانہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران ملک میں ہونے والی ریٹیل ادائیگیوں میں 92 فیصد لین دین ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے ہوئے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال کے دوران رسمی بینکاری اور ادائیگی کے نظام کے ذریعے مجموعی طور پر 14.3 ارب ریٹیل ٹرانزیکشنز ریکارڈ ہوئیں، جن کی مجموعی مالیت تقریباً 673 کھرب روپے رہی۔ ان میں سے 13.2 ارب ٹرانزیکشنز ڈیجیٹل ذرائع سے کی گئیں، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 65 فیصد زیادہ ہیں۔
موبائل فون سے ادائیگیوں میں بڑا اضافہ
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ میں موبائل فون سب سے اہم ذریعہ بن کر سامنے آیا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں موبائل فون پر مبنی مختلف ادائیگیوں کے ذریعے 11.1 ارب سے زیادہ ٹرانزیکشنز ہوئیں، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 79 فیصد زیادہ ہیں۔
ان ذرائع میں موبائل بینکنگ ایپس، برانچ لیس بینکنگ ایپس، ای والٹس اور دیگر موبائل پر مبنی مالیاتی سہولیات شامل ہیں۔
دوسری جانب انٹرنیٹ بینکنگ پورٹلز کے ذریعے تقریباً 30 کروڑ ٹرانزیکشنز ہوئیں، جس میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
کیا واقعی پاکستان میں کیش ختم ہونے لگا؟
92 فیصد کا ہندسہ بظاہر یہ تاثر دیتا ہے کہ پاکستان تیزی سے کیش لیس معیشت کی طرف بڑھ رہا ہے، تاہم اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کی ایک اہم تفصیل کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
ٹرانزیکشنز کی تعداد کے اعتبار سے ڈیجیٹل ادائیگیوں کا حصہ 92 فیصد ہے، لیکن مجموعی مالیت کے اعتبار سے یہ حصہ 38 فیصد ہے۔
یعنی روزمرہ کے نسبتاً چھوٹے اور بار بار ہونے والے لین دین میں ڈیجیٹل ذرائع نے واضح برتری حاصل کرلی ہے، جبکہ بڑے مالیاتی لین دین میں نقد اور دیگر روایتی ذرائع اب بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
QR اور POS ادائیگیوں کا نیٹ ورک بھی پھیل گیا
پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بڑھتے استعمال کے ساتھ دکانداروں اور کاروباری مراکز پر ڈیجیٹل ادائیگی کی سہولت بھی وسیع ہوئی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق جون 2026 تک QR-enabled merchants کی تعداد 38 لاکھ سے تجاوز کرگئی، جبکہ POS ٹرمینلز کی تعداد بڑھ کر 337,791 ہوگئی۔ POS کے ذریعے روزانہ تقریباً 15 لاکھ کارڈ ادائیگیاں ریکارڈ ہوئیں، جو گزشتہ مالی سال میں تقریباً 10 لاکھ روزانہ تھیں۔
ای کامرس میں بھی ڈیجیٹل ادائیگیوں کا غلبہ
آن لائن خریداری کے شعبے میں بھی ڈیجیٹل ادائیگیوں کا استعمال نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بینکاری چینلز کے ذریعے ہونے والی ای کامرس ادائیگیوں میں تقریباً 96 فیصد لین دین اکاؤنٹ پر مبنی آن لائن ادائیگیوں کے ذریعے ہوا۔
اسی عرصے میں بینکوں کی موبائل ایپ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 3 کروڑ 4 لاکھ جبکہ برانچ لیس بینکنگ موبائل ایپس کے صارفین کی تعداد 9 کروڑ 91 لاکھ تک پہنچ گئی۔
کیش لیس معیشت کی طرف سفر، مگر ابھی سفر باقی ہے
اسٹیٹ بینک کے تازہ اعداد و شمار سے واضح ہے کہ پاکستان میں روزمرہ ادائیگیوں کا طریقہ تیزی سے تبدیل ہورہا ہے۔ موبائل فون اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے عام صارف کے لیے رقم کی منتقلی، بلوں کی ادائیگی، آن لائن خریداری اور دکانداروں کو ادائیگی پہلے کے مقابلے میں آسان بنادی ہے۔
تاہم 92 فیصد کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کی 92 فیصد رقم ڈیجیٹل ہوگئی ہے۔ یہ شرح ریٹیل ٹرانزیکشنز کی تعداد سے متعلق ہے، جبکہ مجموعی مالیاتی مالیت میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا حصہ 38 فیصد ہے۔
یوں پاکستان میں کیش کا استعمال ختم ہونے کے بجائے روزمرہ کے لین دین میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جگہ تیزی سے بڑھ رہی ہے، جبکہ بڑے مالیاتی لین دین کو بھی ڈیجیٹل نظام میں منتقل کرنا اگلا بڑا چیلنج دکھائی دیتا ہے۔
