اقوام متحدہ میں افغانستان سے متعلق قرارداد منظور، امریکہ و اسرائیل کی مخالفت، پاکستان نے ٹی ٹی پی کو بڑا خطرہ قرار دے دیا
[ad_1]
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک اہم قرارداد منظور کرتے ہوئے افغانستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی بحران، پناہ گزینوں کی واپسی، اور دہشت گردی کے بڑھتے خطرات کے تناظر میں انسانی حقوق کا احترام کرے، بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرے اور دہشت گرد گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔
اس قرارداد کے حق میں 116 اور مخالفت میں دو ووٹ (امریکہ اور اسرائیل) آئے جبکہ 12 ارکان رائے شماری سے غیرحاضر رہے۔
قرارداد میں چار سال قبل افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد ملک کو درپیش کثیررخی بحران پر خدشات ظاہر کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ افغان عوام کی بڑے پیمانے پر مدد کرے اور طالبان پر ملک میں انسانی حقوق، امن اور استحکام یقینی بنانے کے لیے زور دے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں امدادی، سیاسی اور ترقیاتی کرداروں کے مابین ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ ملک میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر منظم جبر سنگین تشویش کا باعث ہے اور ملکی حکمران انہیں تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی سے خارج کرنے کی پالیسیوں پر نظرثانی کریں۔
قرارداد میں طالبان حکمرانوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ملکی ذمہ داریوں کی تکمیل کو یقینی بنائیں۔

قرارداد کے حق اور مخالفت میں ووٹ دینے والے رکن ممالک اور رائے شماری سےغیر حاضر ارکان کے نام جنرل اسمبلی کی سکرینوں پر آویزاں ہیں۔
معاشی بدحالی اور غذائی عدم تحفظ
جنرل اسمبلی نے ملک میں جاری تشدد اور القاعدہ، داعش، اس سے منسلک داعش۔خراسان گروہ اور تحریک طالبان پاکستان جیسے دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پر سنگین تشویش ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کو دہشت گردوں کا محفوظ ٹھکانہ نہیں بننا چاہیے۔
اس میں افغانستان کے بگڑے معاشی حالات، بڑے پیمانے پر پھیلتی غربت اور امدادی وسائل کے بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے رکن ممالک اور عطیہ دہندگان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ملک کے لیے اصولی اور پائیدار امداد میں اضافہ کریں۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھال لی
قرارداد میں افغانستان کو سیلاب اور خشک سالی جیسی قدرتی آفات سے لاحق بڑھتے ہوئے خطرے کا تذکرہ بھی شامل ہے جس کے باعث غذائی عدم تحفظ اور معاشی بدحالی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اس میں واضح کیا گیا ہے کہ پائیدار امن کا حصول طویل مدتی سماجی، معاشی اور سیاسی استحکام کی بدولت ہی ممکن ہے جو شہری، سیاسی، سماجی، معاشی اور ثقافتی حقوق کے مکمل احترام اور مشمولہ و نمائندہ حکومت کا تقاضا کرتا ہے۔

افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر منظم جبر سنگین تشویش کا باعث ہے۔
وسائل اور خدمات پر بڑھتا دباؤ
یہ قرارداد ایسے موقع پر منظور کی گئی ہے جب افغانستان میں کمزور امدادی نظام پر دباؤ میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق، پاکستان اور ایران سے بڑی تعداد میں افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے باعث ملک میں خدمات پر دباؤ بڑھ رہا ہے جبکہ ملک کے سرحدی صوبے ان لوگوں کو سنبھالنے کے قابل نہیں ہیں۔ رضاکارانہ یا بالجبر واپسی اختیار کرنے والوں کو تحفظ کے سنگین خطرات لاحق ہیں جبکہ ہزاروں خاندانوں کو خوراک، پناہ اور بنیادی خدمات کی فوری ضرورت ہے۔
رواں سال افغانستان میں ایک کروڑ 70 لاکھ لوگوں کے لیے 2.4 ارب ڈالر مالیتی امدادی وسائل کی ضرورت ہے جبکہ حالیہ ایام تک ان میں صرف 22 فیصد ہی مہیا ہو سکے ہیں۔ ایسے حالات میں آئندہ مہینوں کے دوران لوگوں کو ضروری مدد پہنچانے کی کوششوں کو خطرہ لاحق ہے۔
قرارداد میں عطیہ دہندگان اور متعلقہ فریقین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ملک کو انسانی امداد کی فراہمی محدود کرنے کے فیصلوں پر نظرثانی کریں کہ اس سے انسانی حالات میں مزید بگاڑ پیدا ہو گا۔

ایران سے بے دخل کیے گئے افغان مہاجر اپنے ملک کی سرحد پر پہنچ رہے ہیں۔
جابرانہ سزاؤں پر اظہار تشویش
اسمبلی نے اگست 2021 میں طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد ملک میں سیاسی مشمولیت کی کمی، لوگوں کو دی جانے والی ماورائے عدالت سزاؤں بشمول سزائے موت، جبری گمشدگیوں اور ناجائز حراستوں پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔ اس کے ساتھ، طالبان کی جانب سے افیون کی کاشت میں کمی لانے کے اقدامات کا اعتراف کرتے ہوئے انسداد منشیات، منظم جرائم کی بیخ کنی اور غیرقانونی ہتھیاروں کی سمگلنگ روکنے کے لیے جامع اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔
قراراد میں پاکستان اور ایران سمیت افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والے ممالک کی ستائش کرتے ہوئے اس معاملے میں مزید بوجھ بانٹنے اور بے گھر افغانوں اور ان کے میزبانوں کی مدد کے لیے بین الاقوامی تعاون میں اضافے کے لیے کہا گیا ہے۔
اس میں بیرون ملک افغان پناہ گزینوں اور اندرون ملک بے گھر ہونے والوں کی محفوظ، باوقار اور رضاکارانہ واپسی کے لیے حالات کو سازگار بنانے اور معاشرے میں ان کی پائیدار یکجائی کے اقدامات پر بھی زور دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے چھ ہزار جنگجو افغان سرزمین پر سرگرم ہیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا:
"ٹی ٹی پی پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، اور ان کی افغان سرزمین پر موجودگی دنیا کے لیے بھی باعث تشویش ہے۔”
دہشت گرد گروہوں اور معاشی بحران پر خدشات
قرارداد میں افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیموں جیسے القاعدہ، داعش-خراسان اور ٹی ٹی پی کی موجودگی پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ افغانستان کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ نہیں بننے دینا چاہیے۔
ساتھ ہی قرارداد میں افغان معیشت کی ابتر حالت، غربت، غذائی قلت اور امدادی وسائل کے بحران کا ذکر کرتے ہوئے رکن ممالک سے ملک کے لیے پائیدار اور اصولی امداد فراہم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
افغان حکومت کا ردعمل
افغان وزارتِ خارجہ نے اقوام متحدہ کی قرارداد پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں ان سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی اور یہ مخصوص ممالک کے دباؤ پر یکطرفہ رپورٹوں پر مبنی ہے۔ ترجمان کے مطابق امارتِ اسلامیہ اسلامی اصولوں اور قومی مفادات کے مطابق سفارشات کا جائزہ لے گی۔
[ad_2]
