مذاکرات کی ناکامی کے بعد پی ٹی آئی کا اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع
لکی مروت: وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں ڈیڈ لاک برقرار رہنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز کردیا، خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے لکی مروت کے گنڈی چوک سے کارکنوں کے ہمراہ مارچ کی قیادت سنبھال لی۔
پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں بنوں، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان اور گردونواح کے اضلاع سے پارٹی کارکنوں کی بڑی تعداد شریک ہے، جبکہ مارچ کی سیکیورٹی کے لیے علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پشاور سے لکی مروت پہنچے، جہاں انہوں نے پارٹی رہنماؤں جنید اکبر سمیت دیگر قائدین کے ہمراہ اسلام آباد کی جانب پیش قدمی شروع کی۔ سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ وہ 8 اکتوبر کو خیبرپختونخوا اور پنجاب کے سنگم پر واقع خیرآباد پہنچنے پر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کے درمیان پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے نمائندوں کی موجودگی میں مذاکرات کے تین دور ہوئے، تاہم فریقین کے درمیان اختلافات دور نہ ہوسکے اور اتوار کی صبح مذاکرات ناکام ہوگئے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مذاکرات ختم ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مذاکرات کو ناکام بنانے میں کردار ادا کیا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں تعطل کی بنیادی وجہ وفاقی حکومت کا یہ مطالبہ تھا کہ خیبرپختونخوا میں وفاق کی جانب سے یکطرفہ طور پر شروع کیے گئے انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کی ذمہ داری صوبائی حکومت قبول کرے۔
لانگ مارچ کا قافلہ اتوار کی رات کرک کے قریب قیام کرے گا، جہاں پیر کو کرک سے مزید کارکن قافلے میں شامل ہوں گے۔ اس کے بعد مارچ کوہاٹ، پشاور اور چارسدہ کی جانب بڑھنے کا منصوبہ ہے۔
وفاقی حکومت نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد میں کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے یا تشدد کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ اگر دھرنے میں شریک افراد نے قانون کی خلاف ورزی کی تو ان کے خلاف قانونی کارروائی اور مقدمات چلائے جائیں گے۔
محسن نقوی نے خبردار کیا کہ وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور قانون توڑنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ شروع ہوچکا ہے، تاہم قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کسی شخص کو نہیں بخشا جائے گا۔
پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ کے بنیادی مقاصد میں پارٹی کے بانی عمران خان کی رہائی، قانون کی بالادستی اور آئین کی سربلندی کے مطالبات شامل ہیں۔ پارٹی قیادت کا مؤقف ہے کہ اسلام آباد کی جانب پیش قدمی ان مطالبات کے حصول کے لیے کی جارہی ہے۔
