حکومت اور PTI مذاکرات بے نتیجہ، دونوں جانب سے ایک دوسرے پر الزام
اسلام آباد: حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے درمیان سیاسی کشیدگی کم کرنے اور اسلام آباد کی جانب پارٹی کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے ہونے والے مذاکرات بغیر کسی حتمی پیش رفت کے ختم ہوگئے، جس کے بعد دونوں جانب سے مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال دی گئی۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جمعہ اور ہفتہ کو مذاکرات کے دو اہم ادوار ہوئے، تاہم کئی گھنٹوں کی بات چیت اور مسودوں میں ترامیم کے باوجود فریقین بنیادی اختلافات دور نہ کرسکے۔ مذاکرات میں عمران خان تک رسائی اور خیبرپختونخوا میں انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی اہم تنازعات بن کر سامنے آئے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انہوں نے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کیا۔ ان کے مطابق سیاسی معاملات پر تقریباً مکمل اتفاق ہوچکا تھا، تاہم انسدادِ دہشت گردی سے متعلق معاملات پر صوبائی حکومت کے مؤقف میں تبدیلی کے باعث حتمی معاہدہ نہ ہوسکا۔
محسن نقوی کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی معاملات پر تقریباً مکمل اتفاق رائے موجود تھا، جبکہ خیبرپختونخوا حکومت کو انسدادِ دہشت گردی کے معاملات میں وفاق کے ساتھ تعاون کے لیے ایک تحریری معاہدے اور عملی منصوبے پر اتفاق کرنا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ مذاکرات کے آخری مرحلے میں صوبائی حکومت نے پہلے سے طے شدہ نکات سے پیچھے ہٹنا شروع کردیا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی نے حکومت کے اس مؤقف کو مسترد کردیا۔ پارٹی کے مطابق مذاکرات میں سب سے بڑا تعطل عمران خان تک فوری رسائی کے معاملے پر پیدا ہوا۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ حکومت نے عمران خان سے ملاقاتوں کی بحالی پر آمادگی ظاہر کی، تاہم ان کے طبی معائنے اور علاج سے متعلق اضافی مطالبات اور عمران خان تک سیاسی مشاورت کے لیے رسائی کو مجوزہ معاہدے کا حصہ بنانے پر اتفاق نہیں کیا گیا۔
پی ٹی آئی نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان اور انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی یک طرفہ طور پر نافذ کرنے کے بجائے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ صوبائی اسمبلی میں موجود سیاسی جماعتوں، منتخب نمائندوں اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کی جانی چاہیے۔
مذاکرات میں انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے متعدد نکات زیرِ بحث آئے، جن میں دہشت گرد تنظیموں کی مذمت، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے وسائل کی فراہمی، پولیس کی استعداد میں اضافہ، وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد شامل تھے۔ تاہم ان معاملات پر فریقین کے درمیان مطلوبہ اتفاق رائے پیدا نہ ہوسکا۔
مذاکرات کی ناکامی کے بعد سیاسی صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے۔ پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کردیا ہے، جس کی قیادت وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کر رہے ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ آئندہ مرحلے کے بارے میں مزید فیصلے مارچ کے دوران کیے جائیں گے۔
دوسری جانب حکومت نے واضح کیا ہے کہ احتجاج کی اجازت آئینی و قانونی دائرے میں رہتے ہوئے ہوگی اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی یا اسلام آباد میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کی صورت میں کارروائی کی جائے گی۔
یوں مذاکرات کی ناکامی کے بعد حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اختلافات ختم ہونے کے بجائے مزید نمایاں ہوگئے ہیں۔ ایک طرف حکومت خیبرپختونخوا حکومت کو انسدادِ دہشت گردی کے معاملے میں رکاوٹ قرار دے رہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی عمران خان تک رسائی اور صوبائی سطح پر انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی میں مشاورت کو بنیادی مسئلہ قرار دے رہی ہے۔
