ملتان کارڈیالوجی کی سالانہ رپورٹ: 15 ہزار سے زائد اینجیوپلاسٹیز، 10 لاکھ مریضوں کا او پی ڈی میں معائنہ
ملتان: چوہدری پرویز الٰہی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی ملتان کے سالانہ کارکردگی کے اعداد و شمار کے مطابق ایک سال کے دوران ہسپتال میں 3 ہزار 27 کارڈیک سرجریز، 15 ہزار 238 اینجیوپلاسٹیز اور 26 ہزار 503 اینجیوگرافیز کی گئیں، جبکہ او پی ڈی میں 10 لاکھ 23 ہزار 804 مریضوں نے طبی مشاورت حاصل کی۔
جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 13 ہزار 470 مریضوں کو داخل کرکے علاج فراہم کیا گیا، جبکہ او پی ڈی فارمیسی کے ذریعے 11 لاکھ 36 ہزار 350 مریضوں کو مفت ادویات دی گئیں۔
ایک سال میں 3 ہزار 27 کارڈیک سرجریز
سالانہ اعداد و شمار کے مطابق ملتان کارڈیالوجی میں ایک سال کے دوران 3 ہزار 27 کارڈیک سرجریز انجام دی گئیں۔ اسی عرصے میں دل کی شریانوں کے علاج کے لیے 15 ہزار 238 پرکیوٹینیئس کورونری انٹروینشنز (PCI) کی گئیں، جبکہ دل کی شریانوں کی جانچ کے لیے 26 ہزار 503 کورونری اینجیوگرافیز (CA) انجام دی گئیں۔
ہسپتال میں ہنگامی بنیادوں پر دل کی بند یا تنگ شریان کھولنے کے لیے 6 ہزار 740 پرائمری PCI پروسیجرز کیے گئے۔ اس کے علاوہ 7 ہزار 365 پرائمری کورونری اینجیوگرافیز بھی کی گئیں۔
او پی ڈی میں 10 لاکھ سے زائد مریضوں کا معائنہ
اعداد و شمار کے مطابق ایک سال کے دوران ہسپتال کی او پی ڈی میں 10 لاکھ 23 ہزار 804 مریضوں نے طبی مشاورت حاصل کی، جبکہ ایک لاکھ 13 ہزار 470 مریضوں کو داخل کرکے علاج کی سہولت فراہم کی گئی۔
دل کی ساخت اور کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے اسی عرصے میں 64 ہزار 988 ایکوکاردیوگرافیز بھی کی گئیں۔
13 لاکھ سے زائد پیتھالوجی ٹیسٹ
ہسپتال میں تشخیص اور علاج کے عمل کے دوران ایک سال میں مجموعی طور پر 13 لاکھ 36 ہزار 868 پیتھالوجی ٹیسٹ کیے گئے۔ یہ ٹیسٹ مریضوں کی بیماریوں کی تشخیص اور طبی نگہداشت کے عمل میں استعمال ہوتے ہیں۔
11 لاکھ سے زائد مریضوں کو مفت ادویات
سالانہ کارکردگی کے اعداد و شمار کے مطابق او پی ڈی فارمیسی کے ذریعے 11 لاکھ 36 ہزار 350 مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی گئیں۔ تاہم دستیاب معلومات میں ادویات کی اقسام، ان پر آنے والے اخراجات اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی دیگر سہولیات کی تفصیل شامل نہیں۔
ملتان کارڈیالوجی کے یہ اعداد و شمار ایک سال کے دوران فراہم کی جانے والی طبی خدمات کا حجم ظاہر کرتے ہیں۔ سالانہ رپورٹ کی مدت اور اعداد و شمار جاری کرنے والے متعلقہ حکام کی تفصیلات سامنے آنے پر ہسپتال کی کارکردگی کا مزید واضح جائزہ لیا جا سکے گا۔
