ملتان میں خواتین کو رکشے میں بٹھا کر لوٹنے والا گروہ گرفتار ، ڈرائیور سمیت 3 افراد سی سی ڈی کی حراست میں

اہم خبریںپاکستانتازہ ترینملتان

سیف سٹی کے کیمروں اور نمبر پلیٹ شناختی نظام کی مدد سے مشتبہ رکشے کا سراغ لگایا گیا، سیداں والا بائی پاس چوک کے قریب کارروائی کے بعد ملزمان اور رکشہ سی سی ڈی پولیس کے حوالے کردیا گیا

ملتان: سیف سٹی ملتان کی جدید مانیٹرنگ اور سٹی ٹریفک پولیس کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں خواتین کو رکشے میں سوار کرکے مبینہ طور پر لوٹنے والے گروہ کا سراغ لگا لیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق، سیداں والا بائی پاس چوک کے قریب کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ رکشہ ڈرائیور اور دو خواتین کو حراست میں لے لیا گیا۔

ملتان کی اہم تفصیلات اور پس منظر

مبینہ گروہ میں ایک رکشہ ڈرائیور اور دو خواتین شامل تھیں۔ یہ افراد خواتین کو رکشے میں بٹھا کر مختلف طریقوں سے دھوکا دیتے اور ان سے رقم اور قیمتی سامان چھین لیتے تھے۔

سیف سٹی کیمروں سے مشتبہ رکشے کی شناخت

رپورٹس کے مطابق، سیف سٹی ملتان کے مانیٹرنگ سسٹم کے ذریعے مشتبہ رکشے کی شناخت کی گئی۔ اس کی نمبر پلیٹ کا سراغ لگانے کے بعد رکشے کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھی جانے لگی۔

مشتبہ رکشے کو نظام میں بلیک لسٹ کیے جانے کے بعد اس کی موجودگی کا الرٹ موصول ہوا تو سیف سٹی ملتان نے سٹی ٹریفک پولیس سے رابطہ کیا۔ اس کے بعد متعلقہ اہلکاروں نے رکشے کی نقل و حرکت کو ٹریک کیا اور اسے روکنے کے لیے کارروائی کی۔

ٹریفک وارڈنز کی کارروائی، تین افراد حراست میں

خبر کے مطابق، ٹریفک وارڈنز عبدالشکور اور آصف امین نے کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ رکشے کو سیداں والا بائی پاس چوک کے قریب روک لیا۔ رکشے میں موجود ڈرائیور اور دونوں خواتین کو حراست میں لے لیا گیا، جبکہ رکشہ بھی قبضے میں لے لیا گیا۔

بعد ازاں، مشتبہ افراد اور رکشے کو مزید قانونی کارروائی اور تفتیش کے لیے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) ملتان پولیس کے حوالے کردیا گیا۔

100 سے زائد وارداتوں میں ملوث

ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ مبینہ گروہ 100 سے زائد وارداتوں میں ملوث ہے۔ تاہم، دستیاب اطلاعات میں ان تمام وارداتوں کی تفصیلات، متاثرہ خواتین کی تعداد، مبینہ طور پر لوٹی گئی رقم اور سامان کی مالیت بیان نہیں کی گئی۔

جرائم کی روک تھام میں جدید ٹیکنالوجی کا کردار

اس کارروائی میں سیف سٹی کیمرے، نمبر پلیٹ شناختی نظام اور مسلسل مانیٹرنگ اہم ثابت ہوئے۔ رپورٹس کے مطابق، مشتبہ گاڑی کی شناخت کے بعد متعلقہ پولیس اہلکاروں کو بروقت اطلاع دی گئی، جس سے رکشے کو روکنے اور اس میں سوار افراد کو حراست میں لینے میں مدد ملی۔