امریکا کے معروف اور مہربان مزاج جج فرینک کیپریو 88 برس کی عمر میں چل بسے

اہم خبریںدنیا

دنیا بھر میں اپنی ہمدردانہ شخصیت، نرم لہجے اور دل جیت لینے والے عدالتی فیصلوں سے مشہور ہونے والے امریکی جج فرینک کیپریو 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے لبلبے کے سرطان سے نبردآزما تھے۔

 ان کے اہل خانہ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ کیپریو "پُرسکون انداز میں دنیا سے رخصت ہو گئے”۔ بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے اپنی ہمدردی، عاجزی اور انسانیت پر یقین کے ذریعے دنیا بھر کے کروڑوں دلوں کو چھوا، اور ایک ایسی عدالتی روایت قائم کی جو مہربانی اور انصاف کا حسین امتزاج تھی۔

کیپریو کی شہرت کا راز: عدالت نہیں، احساس تھا

فرینک کیپریو امریکی ریاست روڈ آئی لینڈ کے شہر پراویڈنس کی میونسپل کورٹ کے جج تھے، جہاں انہوں نے تقریباً 4 دہائیوں تک خدمات انجام دیں۔ ان کا ریئلٹی ٹی وی شو "Caught in Providence” دنیا بھر میں مقبول ہوا، جس میں ٹریفک کی خلاف ورزیوں سے متعلق مقدمات کی سماعت دیکھی جا سکتی تھی۔

مگر جو چیز ان کے شو کو منفرد بناتی تھی، وہ قانون کا اطلاق نہیں بلکہ انسانی ہمدردی کا اظہار تھا۔ کیپریو مجرموں کو سخت سزائیں دینے کی بجائے ان کی ذاتی زندگی، حالات اور مشکلات کو مدنظر رکھتے، جس سے ناظرین کو نہ صرف قانون بلکہ انسانیت کی بھی ایک جھلک ملتی۔

ایک رحم دل جج، جس نے لاکھوں دل جیتے

کیپریو کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، جن میں وہ معمر افراد، تنہا ماؤں، اور پریشان حال شہریوں کے جرمانے معاف کرتے اور ان سے ہمدردی سے پیش آتے۔

ایک مشہور کیس میں، انہوں نے ایک 96 سالہ بزرگ کا ٹریفک چالان اس بنیاد پر معاف کر دیا کہ وہ اپنے 63 سالہ کینسر زدہ بیٹے کو ہسپتال لے جا رہے تھے۔ کیپریو نے ان سے کہا:
"آپ واقعی وہی ہیں جو امریکہ کی پہچان ہے۔”

کینسر سے جدوجہد اور سوشل میڈیا پر آخری پیغامات

فرینک کیپریو نے لبلبے کے سرطان سے اپنی لڑائی کو کبھی نہیں چھپایا۔ یکم جون کو "سرطان سے بچ جانے والوں کے دن” کے موقع پر انہوں نے ٹک ٹاک پر ایک ویڈیو میں کہا:
"مجھے امید ہے کہ ایک دن میں بھی خود کو ’سرطان سے بچ جانے والا‘ کہہ سکوں گا۔”

مگر وہ دن نہیں آیا۔

وفات سے چند گھنٹے قبل ان کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اسپتال کے بستر پر لیٹی ایک تصویر اور مداحوں کے لیے ایک پیغام شیئر کیا گیا، جس میں انہوں نے محبت، دعاؤں اور تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

پس منظر: ایک محنت کش خاندان کا بیٹا

کیپریو کا تعلق ایک اطالوی تارک وطن خاندان سے تھا۔ ان کے والد ایک مزدور تھے جنہیں کیپریو نے اپنی زندگی کا سب سے نیک انسان قرار دیا۔ ایک بار ان کی عدالت میں ایک خاتون پیش ہوئی جو پارکنگ جرمانہ ادا نہیں کر سکی۔ کیپریو نے سختی برتی، لیکن ان کے والد نے بعد میں سمجھایا کہ وہ خاتون "ڈری ہوئی تھی، بدتمیز نہیں”۔

یہ وہ لمحہ تھا جس نے کیپریو کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

ایک انسان، جو ہم سب کے لیے مثال ہے

کیپریو کے سوشل میڈیا فالوورز کی تعداد لاکھوں میں تھی – انسٹاگرام پر 33 لاکھ اور ٹک ٹاک پر 16 لاکھ۔ 2024 میں انہیں ڈے ٹائم ایمی ایوارڈ کے لیے بھی نامزد کیا گیا۔

ان کی وفات پر جاری بیان میں کہا گیا:
"کاش ہم میں سے ہر کوئی ان کے اعزاز میں دنیا میں ذرا سی مزید ہمدردی لانے کی کوشش کرے، بالکل ویسے ہی جیسے وہ ہر دن کیا کرتے تھے۔”

فرینک کیپریو نہ صرف ایک جج تھے، بلکہ انصاف اور انسانیت کے درمیان ایک پل تھے۔ وہ گئے، مگر ان کے فیصلے، مسکراہٹیں اور سبق ہمیں ہمیشہ یاد رہیں گے۔