فیلڈ مارشل نے برسلز میں کسی معافی یا سیاسی معاملے پر بات نہیں کی اور نہ ہی کسی صحافی کو انٹرویو دیا،ترجمان پاک فوج
اسلام آباد: پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا ہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے برسلز میں کسی معافی یا سیاسی معاملے پر بات نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کا واقعہ صرف فوج نہیں بلکہ پوری قوم کا مقدمہ ہے، اور اس میں ملوث افراد، سہولت کاروں ترجمان پاک فوجاور منصوبہ سازوں کو قانون کے مطابق کٹہرے میں لایا جائے گا۔
وفاقی دارالحکومت میں ایک تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے سہیل وڑائچ کے کالم میں کیے گئے دعوؤں کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ برسلز میں فیلڈ مارشل نے کسی صحافی کو انٹرویو نہیں دیا، وہاں صرف سیکڑوں افراد نے تصاویر بنوائیں۔ پی ٹی آئی یا معافی سے متعلق کوئی گفتگو نہیں ہوئی، یہ دعویٰ ایک صحافی کی ذاتی تشہیر کی کوشش ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے کی تقدیریں بدلنے والا ملک ہے، اسی وجہ سے اس پر بار بار حملے ہوتے ہیں۔ نوجوانوں کو اپنی نظریاتی ریاست کی میراث اور طاقت پہچاننی چاہیے۔ ان کے مطابق جس دن نوجوان اپنی اصل طاقت کو جان لیں گے، کوئی پراکسی یا شدت پسندانہ سوچ انہیں گمراہ نہیں کر سکے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں پائیدار امن کے لیے 2014 کے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد ناگزیر ہے۔ فی الحال صرف پہلا نکتہ ہی عملی طور پر نافذ ہے، باقی 13 نکات پر بھی پیش رفت ضروری ہے تاکہ گورننس کے خلا کو پر کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ خلا فوج، پولیس اور دیگر ادارے روزانہ اپنی قربانیوں سے پورا کر رہے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے زور دیا کہ غیر قانونی سرگرمیوں یا غیر قانونی مقیم افغانوں کے خلاف اقدامات ناگزیر ہیں، لیکن بدقسمتی سے اس معاملے میں بعض سیاسی اور مجرمانہ عناصر رکاوٹ بنتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا خیال تھا کہ وہ حملہ کر کے پاکستانی فوج کو کمزور اور بدنام کر دے گا، مگر حقیقت اس کے برعکس ثابت ہوئی۔ پاک فوج کے بھرپور جواب نے بھارت کو اپنی تمام پراکسیز سمیت ناکام کر دیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ پاکستان کا دفاعی بجٹ محدود ہونے کے باوجود ہم ایٹمی قوت ہیں، جب کہ ایران جیسے ملک زیادہ سرمایہ خرچ کر کے بھی یہ صلاحیت حاصل نہ کر سکے۔ ہمارے نوجوانوں کو منظم مہم کے تحت مایوس کیا گیا، جبکہ بھارت کو عالمی سطح پر ’’شائننگ اسٹیٹ‘‘ اور ’’وشوا گرو‘‘ جیسے خطابات دیے گئے۔ یہ سب پراپیگنڈا پاکستان کو کمزور دکھانے کے لیے کیا گیا۔
