وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ
وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا ہنگامی دورہ کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل سب سے پہلے سوات پہنچے، جہاں ان کا استقبال وفاقی وزیر امیر مقام نے کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزراء عطاء تارڑ، احسن اقبال اور دیگر اعلیٰ حکام بھی وزیراعظم کے ہمراہ موجود تھے۔
سوات کے بعد وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے بونیر اور شانگلہ کے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیا۔ بونیر میں وزیراعظم نے سیلاب متاثرین سے ملاقات کی اور ان میں امدادی چیک تقسیم کیے۔ متاثرہ خاندانوں نے اپنی مشکلات اور ضروریات وزیراعظم کے سامنے پیش کیں، جن پر فوری کارروائی کی یقین دہانی کرائی گئی۔
حکام کے مطابق خیبر پختونخوا میں حالیہ بارشوں اور تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں اب تک 350 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 228 کا تعلق صرف ضلع بونیر سے ہے۔
ادھر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) نے بتایا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کی مسلسل ترسیل جاری ہے۔ آج صبح باجوڑ اور مانسہرہ کے لیے دو الگ الگ امدادی کھیپیں روانہ کی گئیں جن میں خیمے، کمبل، جنریٹر، ڈی واٹرنگ پمپس، راشن بیگز اور ادویات شامل ہیں۔
ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 650 سے زائد، سب سے زیادہ نقصان خیبر پختونخوا میں
این ڈی ایم اے کے مطابق یہ سامان متعلقہ ضلعی انتظامیہ کے حوالے کیا جائے گا تاکہ منظم انداز میں متاثرہ خاندانوں تک پہنچایا جا سکے۔ مزید برآں، ادارہ مسلح افواج اور مختلف فلاحی تنظیموں کے تعاون سے خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں بھی امدادی سرگرمیوں میں مصروفِ عمل ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے دورے کے دوران ایک بار پھر موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ:
"یہ صرف قدرتی آفت نہیں بلکہ ایک قومی چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے ہمیں متحد ہوکر تیز رفتار اور مربوط اقدامات کرنا ہوں گے۔”
