کویت میں زہریلی شراب پینے سے 13 تارکین وطن ہلاک، 21 نابینا

اہم خبریںدنیا

کویت میں میتھانول ملی زہریلی شراب پینے کے نتیجے میں ہولناک سانحہ پیش آیا ہے، جس میں اب تک 13 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جب کہ درجنوں افراد مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔

کویت کی وزارتِ صحت کے مطابق، گزشتہ پانچ دنوں کے دوران زہریلی شراب کے استعمال سے کم از کم 50 افراد کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جن میں سے 13 افراد دم توڑ چکے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد نے ایسی شراب استعمال کی تھی جس میں میتھانول (Methanol) کی خطرناک مقدار شامل تھی۔ یہ ایک صنعتی کیمیکل ہے، جس کا استعمال انسانی صحت کے لیے سخت مضر اور مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔

وزارت صحت کے مطابق:

  • 21 افراد کی بینائی متاثر ہوئی، جن میں سے کچھ مکمل طور پر نابینا ہو چکے ہیں،

  • 50 افراد کو گردوں کی صفائی (ڈائیلاسس) کی فوری ضرورت پیش آئی،

  • 31 مریض ایسے ہیں جنہیں مصنوعی تنفس پر رکھا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، تمام متاثرین کا تعلق مختلف ایشیائی ممالک سے ہے جو کویت میں مزدوری اور دیگر محنت کش پیشوں سے وابستہ تھے۔

بھارت میں زہریلی شراب پینے سے 39 افراد ہلاک

غیر قانونی شراب کی فروخت کا خطرناک انجام

واضح رہے کہ کویت میں 1964 سے شراب کی درآمد، تیاری اور فروخت پر مکمل پابندی عائد ہے، تاہم غیر قانونی طریقوں سے مقامی سطح پر شراب تیار اور فروخت کی جاتی ہے۔ اس خفیہ کاروبار میں ناقص اور غیر معیاری الکحل کا استعمال اکثر مہلک ثابت ہوتا ہے۔

کویت کی حکومت نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ اس غیر قانونی نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے جو انسانی جانوں سے کھیل رہا ہے۔ حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی یا نامعلوم ذرائع سے خریدی گئی شراب کسی بھی وقت جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔