اداکارہ حمیرا اصغر کی تنہائی میں پراسرار موت: تحقیقاتی رپورٹ کے اہم انکشافات

انٹرٹینمنٹپاکستانتازہ ترین

کراچی:اداکارہ حمیرا اصغر کی موت سے متعلق جاری تحقیقات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی زندگی کے آخری ایام شدید مالی اور ذاتی مشکلات میں گزرے۔

تحقیقاتی ٹیم نے اداکارہ کے فلیٹ سے تین موبائل فونز اور ایک ٹیبلٹ تحویل میں لے کر ان کا ڈیجیٹل فرانزک کیا، جس کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ حمیرا اصغر موت کے وقت شدید مالی بحران کا شکار تھیں۔

حکام کے مطابق حمیرا کا فون آخری بار 7 اکتوبر 2024 کو شام 5 بجے استعمال ہوا۔ اُس دن انہوں نے 14 افراد سے رابطے کی کوشش کی، مگر کسی سے بات نہیں ہو سکی۔ اس ڈیٹا کی بنیاد پر تحقیقاتی ادارے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان کی موت اسی دن یعنی 7 اکتوبر کو واقع ہوئی۔

اداکارہ کے فلیٹ سے ایک ڈائری، متعدد دستاویزات، یوٹیلیٹی بلز اور مئی 2024 تک کے کرائے کی رسیدیں بھی ملی ہیں، جب کہ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس موجود تینوں سمز ایکٹیو تھیں، اور دو فون بغیر پاسورڈ کے کھلے ہوئے تھے۔

اداکارہ حمیرا اصغر کی تنہائی میں پراسرار موت: تحقیقاتی رپورٹ کے اہم انکشافات

اداکارہ حمیرا اصغر کی ممکنہ موت کب ہوئی؟، ابتدائی تفصیلات سامنے آگئیں

لاش 8 جولائی 2025 کو اس وقت ملی جب عدالتی بیلف نے کرائے کی عدم ادائیگی پر فلیٹ کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو کر اداکارہ کی لاش دریافت کی۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق لاش ڈی کمپوزنگ کے آخری مرحلے میں تھی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ موت کو تقریباً 8 سے 10 ماہ گزر چکے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ موت سے قبل اداکارہ نے مبینہ طور پر کپڑے دھوئے تھے۔ تفتیشی ٹیم کو فلیٹ کے واش روم میں کپڑے ملے، جب کہ فلیٹ کی بالکونی کا دروازہ بھی کھلا ہوا تھا۔ اداکارہ کی لاش بیڈروم سے متصل ایک کمرے میں ملی، اور فلیٹ کا مرکزی دروازہ اندر سے ڈبل لاک تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ مزید تفصیلات اور موت کی اصل وجہ کا تعین کیمیکل تجزیے اور مکمل میڈیکل رپورٹ سے ہو گا۔

یہ افسوسناک واقعہ نہ صرف انفرادی تنہائی اور معاشی دباؤ کی تصویر کشی کرتا ہے بلکہ شوبز انڈسٹری کے ان اندوہناک پہلوؤں کو بھی بے نقاب کرتا ہے جن سے اکثر پردہ اُٹھتا ہی نہیں۔