اداکارہ حمیرا اصغر کی ممکنہ موت کب ہوئی؟، ابتدائی تفصیلات سامنے آگئیں
کراچی:معروف اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش کی برآمدگی کے بعد کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق شواہد کی روشنی میں اداکارہ کی موت ممکنہ طور پر 7 اکتوبر کو ہوئی تھی۔
ڈی آئی جی نے جیو نیوز کے پروگرام "جیو پاکستان” میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جس فلیٹ سے لاش ملی، اس کے ساتھ والے کمرے کے واش روم کی کھڑکی کھلی تھی، جس سے ممکن ہے کہ لاش کی بدبو باہر جاتی رہی ہو اور اس لیے طویل عرصے تک کسی کو شک نہ ہوا۔
🔍 اہم شواہد اور پہلو:
-
لاش کو انتہائی خراب حالت میں پایا گیا، پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق یہ ڈی کمپوزیشن کے آخری مرحلے پر تھی، جس سے موت کو کئی ماہ گزرنے کا اندازہ ہوتا ہے۔
-
متاثرہ فلیٹ کے ساتھ والا اپارٹمنٹ بھی عرصہ دراز سے خالی تھا، جبکہ پڑوسی اور چوکیدار دونوں کو اب تفتیش کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
-
حمیرا اصغر اکثر کراچی اور لاہور کے درمیان سفر میں رہتی تھیں، اسی لیے اردگرد کے لوگوں کو ممکنہ طور پر ان کی غیر موجودگی معمول کی بات لگی۔
📞 رابطے کی ناکام کوششیں:
اسد رضا کے مطابق، واقعے کے تین روز بعد چوکیدار نے اداکارہ کو فون کیا لیکن جواب نہ ملا۔ اس کے بعد ایک دوست نے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
🏠 لاش کی دریافت:
حمیرا اصغر کی لاش 8 جولائی کو اس وقت برآمد ہوئی جب فلیٹ کے مالک نے کرایہ ادا نہ ہونے پر عدالت سے رجوع کیا۔ عدالتی بیلف فلیٹ پر پہنچا اور دروازہ نہ کھلنے پر زبردستی دروازہ کھولنے پر اداکارہ کی لاش ملی، جو ناقابلِ شناخت حد تک خراب ہو چکی تھی۔
📌 تحقیقات کا دائرہ وسیع:
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تفتیش کی جا رہی ہے، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ:
-
اداکارہ کی موت کس وجہ سے ہوئی؟
-
کہیں واقعے میں کسی کی غفلت یا مجرمانہ پہلو تو شامل نہیں؟
