ہر سیکنڈ میں 100 سولر پینلز، چین کا منفرد ریکارڈ
چین نے ماحول دوست توانائی کے شعبے میں ایک تاریخی سنگ میل عبور کرتے ہوئے مئی 2025 میں ہوا اور شمسی توانائی سے اتنی بجلی پیدا کی ہے جو ایک پورے یورپی ملک پولینڈ کی بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔
چین میں توانائی کے انفراسٹرکچر کی تیز رفتاری
چین نے گزشتہ چند سالوں میں ماحول دوست توانائی کے انفراسٹرکچر پر زبردست کام کیا ہے۔ صرف مئی کے مہینے میں چین میں 93 گیگا واٹ سولر پینلز نصب کیے گئے، جس کا مطلب ہے کہ وہاں ہر سیکنڈ تقریباً 100 سولر پینلز لگائے گئے۔
اسی طرح، 26 گیگا واٹ کی صلاحیت کے ونڈ ٹربیونز بھی نصب کیے گئے ہیں، جو ہوا سے توانائی پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔
مئی کے مہینے میں پیدا ہونے والی توانائی کی مقدار
ماہرین کا کہنا ہے کہ مئی میں چین کی جانب سے جتنی توانائی ہوا اور سورج سے حاصل کی گئی، وہ یورپ کے ممالک جیسے پولینڈ، سویڈن یا متحدہ عرب امارات کی بجلی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔
جنوری سے مئی کے دوران چین نے 198 گیگا واٹ بجلی صرف سولر پینلز سے حاصل کی جبکہ ونڈ ٹربیونز سے 46 گیگا واٹ بجلی پیدا کی گئی، جو کہ انڈونیشیا یا ترکی کے بجلی کے استعمال کے برابر ہے۔
ماہرین کا نقطہ نظر
ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹیٹیوٹ کے ماہر Lauri Myllyvirta کے مطابق:
"چین کی جانب سے سولر اور ونڈ پاور پر تیزی سے کام جاری ہے، اور موجودہ رفتار واقعی حیرت انگیز ہے۔”
چین کا عالمی معیار پر اثر
چین کی جانب سے نصب کیے گئے سولر پلانٹس کی مجموعی گنجائش پہلی بار ایک ہزار گیگا واٹ سے تجاوز کر گئی ہے، جو دنیا بھر میں موجود سولر منصوبوں کی تقریباً 50 فیصد کے برابر ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف چین کی کوششیں
چین ماحول دوست توانائی کے منصوبوں پر کام اس لیے کر رہا ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات کو کم کیا جا سکے۔ اگرچہ چین دنیا میں گیسوں کے سب سے بڑے اخراج کنندگان میں شامل ہے، لیکن وہ ایک ایسا ملک بھی ہے جو سب سے زیادہ ماحول دوست توانائی کی ٹیکنالوجی فراہم کرتا اور منصوبے چلاتا ہے۔
