مسجد اقصیٰ کو 12 روز بعد مکمل طور پر کھول دیا گیا
ایران اسرائیل جنگ کے باعث سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر 12 روز تک بند رہنے کے بعد مسجد اقصیٰ سمیت بیت المقدس کے تمام مقدس مقامات کو ایک بار پھر عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے۔
عرب میڈیا: بندش ایران اسرائیل جنگ کے آغاز پر کی گئی
عرب میڈیا کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان شروع ہونے والی 12 روزہ جنگ کے آغاز پر ہی مقبوضہ بیت المقدس کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا تھا۔ اس دوران عام شہریوں، نمازیوں اور زائرین کو مقدس مقامات میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی، سوائے مذہبی پیشواؤں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے۔
نماز جمعہ محدود، بعد ازاں مکمل پابندی
اس بندش کے دوران جمعے کی نماز کے لیے بھی صرف محدود تعداد میں فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں عبادت کی اجازت دی گئی تھی، تاہم اس کے بعد عبادت کے تمام مواقع پر بھی پابندی لگا دی گئی۔
مسیحی اور یہودی عبادت گاہیں بھی متاثر
بندش کا دائرہ صرف مسجد اقصیٰ تک محدود نہ تھا بلکہ مسیحیوں کے مقدس ترین چرچ "کنیسہ القیامہ” اور یہودیوں کی "دیوار گریہ” (Western Wall) کو بھی بند کر دیا گیا تھا، جو کہ ایک نایاب اور غیر معمولی اقدام تصور کیا جا رہا ہے۔
کورونا کے بعد پہلی بار مکمل بندش
یاد رہے کہ اس سے قبل صرف کورونا وبا کے دوران بیت المقدس کے مقدس مقامات کو عارضی طور پر بند کیا گیا تھا۔ تاہم موجودہ بندش کو سیاسی و سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں پہلا اور سب سے طویل فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے، جس نے تمام مذاہب کے پیروکاروں کو متاثر کیا۔
انتظامیہ کا مؤقف: سیکیورٹی ترجیح تھی
بیت المقدس کی مقامی انتظامیہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ:
"یہ بندش سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر لگائی گئی تھی، جس کا مقصد شہریوں کی زندگیوں، مذہبی مقامات کے تقدس، اور بین المذاہب ہم آہنگی کو برقرار رکھنا تھا۔”
مقامی عوام کا ردعمل
عوام کی جانب سے مقامات مقدسہ کے دوبارہ کھلنے پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ:
"12 دن بہت تکلیف دہ تھے، ہم نے بیت المقدس میں روحانی خلا محسوس کیا۔”
