امریکی حملوں سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھے گی، ایران کے دفاع کے حق کی بھرپور حمایت کرتے ہیں: پاکستان
نیویارک: پاکستان نے امریکا کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان حملوں سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا۔ پاکستان نے سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور ایران کے اپنے دفاع کے حق کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
ایران کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں روس، چین اور پاکستان نے فوری جنگ بندی اور عالمی قوانین کی پاسداری پر مبنی قرارداد پیش کی۔ قرارداد میں شہریوں کا تحفظ اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنے پر زور دیا گیا۔
اجلاس میں پاکستانی مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں اور فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سفارتی حل پر یقین رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ تنازع کو پُرامن طریقے سے حل کیا جائے۔
عاصم افتخار کا مزید کہنا تھا کہ جوہری تنصیبات پر حملے اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں، اور سلامتی کونسل کا فرض ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔
دوسری جانب، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ خطے کے عوام مزید تباہی برداشت نہیں کر سکتے، اس لیے فوری طور پر جنگ روکی جائے اور جوہری پروگرام پر سنجیدہ مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے بتایا کہ فردو جوہری کمپلیکس پر امریکی حملے سے گہرے گڑھے نظر آئے ہیں اور ایران کو مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے، ورنہ مزید تباہی ہو سکتی ہے۔
چین کے مندوب نے کہا کہ فریقین بالخصوص اسرائیل کو فوری طور پر جنگ بندی پر پہنچنا چاہیے، جبکہ ایران کے جوہری تنازعے کا پرامن حل تلاش کرنے کی کوششیں ترک نہیں کی جانی چاہییں۔ دنیا کو سفارت کاری پر اعتماد برقرار رکھنا ہوگا تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔
