ایران کا اسرائیل پر ایک اور میزائل حملہ، تل ابیب اور یروشلم میں دھماکے

تازہ تریندنیا

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے مکمل جنگ کی صورت اختیار کر لی ہے۔ آج صبح ایران نے اسرائیل پر ایک اور بڑا میزائل حملہ کیا، جس کے جواب میں اسرائیلی فضائیہ نے تہران اور مغربی ایران میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا۔ اس دوران دونوں ممالک کے بڑے شہروں میں فضائی حملے کے سائرن، دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں گونجتی رہیں۔


تل ابیب اور یروشلم میں دوبارہ سائرن بجنے لگے

ایرانی میزائل حملے کے بعد تل ابیب، یروشلم، ہرزلیہ اور دیگر مرکزی علاقوں میں سائرن بجنے لگے۔ اسرائیلی فضائی دفاعی نظام "آئرن ڈوم” کے فعال ہوتے ہی دھماکوں کی زوردار آوازیں سنائی دیں۔ یروشلم سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق کم از کم ایک میزائل مرکزی اسرائیل میں گرا، جبکہ ہرزلیہ میں ایک عمارت سے دھواں اور شعلے بلند ہوتے دکھائی دیے۔

اسرائیلی ایمرجنسی سروسز کے مطابق، ایک بس پارکنگ ایریا پر میزائل گرنے سے پانچ افراد معمولی زخمی ہوئے، جبکہ دیگر مقامات پر فوری طور پر کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔


تہران میں اسرائیلی حملے، اعلیٰ ایرانی کمانڈر ہلاک

جوابی کارروائی میں اسرائیل نے تہران اور دیگر شہروں پر شدید فضائی حملے کیے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، تہران میں اسرائیلی میزائل حملوں سے دھماکوں اور فضائی دفاعی نظام کی فائرنگ کی آوازیں سنائی گئیں۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران میں "خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر” پر حملے کے نتیجے میں میجر جنرل علی شادمانی ہلاک ہو گئے ہیں۔ وہ ایران کی مسلح افواج کے اہم ترین افسران میں شامل تھے اور حال ہی میں جنرل غلام علی راشد کی ہلاکت کے بعد ہیڈکوارٹر کی کمان سنبھالی تھی۔

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ علی شادمانی، رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریب سمجھے جاتے تھے اور ایران کی اسرائیل مخالف جنگی حکمت عملی کی براہ راست نگرانی کر رہے تھے۔


خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر: ایک اہم فوجی مرکز

"خاتم الانبیا” ایران کی فوجی ایمرجنسی کمانڈ کا مرکزی ادارہ ہے، جو پاسدارانِ انقلاب، وزارت دفاع، اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے درمیان جنگی رابطہ کاری انجام دیتا ہے۔ میجر جنرل شادمانی کو ایران-عراق جنگ کا وسیع تجربہ حاصل تھا اور وہ آئی آر جی سی اور فوج دونوں میں اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دے چکے تھے۔


اسرائیلی حملے میں سرکاری براڈکاسٹنگ ادارہ بھی نشانہ

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے "ارنا” کے مطابق، اسرائیلی فضائی حملے میں "اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ (IRIB)” کے ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں ادارے کے ایک نیوز ایڈیٹر اور ایک سیکریٹری ہلاک ہو گئے۔

واقعے کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لائیو نشریات کے دوران اچانک دھماکے ہوتے ہیں، سٹوڈیو کی روشنیاں بند ہو جاتی ہیں، اور ملبہ گرنے لگتا ہے۔ تاہم IRIB نے حملے کے چند گھنٹوں بعد اپنی نشریات بحال کر دیں۔


اسرائیل کے مزید حملے: فوجی تنصیبات نشانہ

اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے مغربی ایران میں متعدد فوجی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے جن میں شامل ہیں:

  • زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کے ذخائر

  • لانچنگ انفراسٹرکچر

  • زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹمز

  • UAV (بغیر پائلٹ ڈرون) کی اسٹوریج سائٹس

IDF کے ترجمان نے کہا کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی دفاعی اور حملہ آور صلاحیتوں کو محدود کرنا ہے۔


صدر ٹرمپ کا تہران خالی کرنے کا مطالبہ

ایران اسرائیل تنازع کے دوران، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انتہائی اہم اور خطرناک پیغام جاری کیا ہے:

"ہر شخص فوراً تہران چھوڑ دے۔
ایران نیوکلیئر ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔
میں نے ایران سے کہا تھا کہ معاہدے پر دستخط کرے، لیکن ایسا نہ ہوا — اب جو ہو رہا ہے، وہ افسوسناک ہے۔”

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کو 60 دن کا وقت دیا گیا تھا نیوکلیئر ڈیل پر دستخط کے لیے، لیکن انکار کے بعد اب امریکا اور اس کے اتحادی "ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔”


نیشنل سکیورٹی کونسل ہائی الرٹ، ممکنہ بات چیت کی کوششیں

وائٹ ہاؤس کے ذرائع کے مطابق، ٹرمپ نے نیشنل سیکیورٹی کونسل کو ہنگامی تیاری کا حکم دے دیا ہے اور وہ کینیڈا سے دورہ مختصر کر کے واشنگٹن واپس لوٹ رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر نے ہدایت دی ہے کہ ایرانی حکام سے فوری رابطے اور ملاقات کا اہتمام کیا جائے۔ اگرچہ یہ قدم ممکنہ سفارتی حل کی طرف اشارہ کرتا ہے، لیکن کشیدگی کی موجودہ شدت اس کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔