دنیا امریکا کے بغیر بھی آگے بڑھ سکتی ہے، چینی صدر شی جن پنگ
چین کے صدر شی جن پنگ کے سرکاری "کامینٹری ایکس اکاؤنٹ” (سابقہ ٹوئٹر) سے جاری ایک نادر اور سخت لب و لہجہ پر مبنی پیغام نے بین الاقوامی سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ اپنے پیغام میں شی جن پنگ نے اشارہ دیا کہ اگر امریکا دنیا کا احترام کھو چکا ہے تو اسے وہی سبق سیکھنا ہو گا جو ہر زوال پذیر سلطنت نے تاریخ میں سیکھا ہے:
"دنیا کسی کے لیے نہیں رکتی، ہمیشہ آگے بڑھتی رہتی ہے۔” دنیا امریکا کے بغیر بھی آگے بڑھ سکتی ہے
تاریخی تناظر میں بڑی سلطنتوں کا زوال
چینی صدر کے اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی اس طویل تحریر میں انسانی تاریخ کی طاقتور سلطنتوں کا حوالہ دے کر امریکا کو آئینہ دکھایا گیا ہے:
-
400 سال پہلے: اسپین، جو منیلا سے لے کر میکسیکو تک حکمرانی کرتا تھا، چاندی اور ریشم سے بھرے خزانے رکھتا تھا، لیکن آج وہ عظمت صرف تاریخ کی کتابوں میں رہ گئی ہے۔
-
200 سال پہلے: فرانس، جو یورپ کا مرکزِ طاقت تھا، جہاں نپولین نے خود کو لازوال قرار دیا تھا، وہ بھی زوال پذیر ہو گیا۔
-
100 سال پہلے: برطانیہ، جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ "اس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا”، دنیا کی 20 فیصد دولت پر قابض تھا، آج عالمی اثر و رسوخ میں ماند پڑ چکا ہے۔
تحریر میں لکھا گیا کہ ہر سلطنت نے خود کو ناگزیر سمجھا، مگر وقت نے انہیں بتا دیا کہ "طاقت کمزور پڑتی ہے، اثر و رسوخ بدل جاتا ہے، اور قانونی حیثیت اسی وقت ختم ہو جاتی ہے جب طاقت کو حق سمجھ لیا جائے۔”
امریکا کے لیے کھلا پیغام
شی جن پنگ کے بیان کا سب سے اہم نکتہ امریکا کے بارے میں یہ جملہ تھا:
"اگر امریکا دنیا کا احترام کھو بیٹھا، تو وہی سبق سیکھے گا جو ہر زوال پذیر سلطنت نے بہت دیر سے سیکھا ہے۔"
یہ پیغام بین الاقوامی تعلقات میں ایک سفارتی مگر دوٹوک انتباہ سمجھا جا رہا ہے کہ چین اب امریکا کو عالمی لیڈر تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں رہا، اور دنیا میں طاقت کا توازن تیزی سے مشرق کی طرف جھک رہا ہے۔
چین کا عالمی اسٹیج پر بدلتا رویہ
چین گزشتہ کئی برسوں سے دنیا میں متبادل عالمی قیادت کا دعویدار بن کر ابھرا ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو، برکس ممالک کے ساتھ اتحاد، اور افریقی، لاطینی اور مشرقی یورپی ممالک کے ساتھ تجارتی و دفاعی معاہدوں کے ذریعے چین نے عملی طور پر وہی کیا ہے جس کا یہ بیان نظریاتی اعلان تھا۔
چینی قیادت کے قریب سمجھے جانے والے سفارتی ماہرین کے مطابق، یہ بیان صرف امریکا کے لیے نہیں بلکہ ان تمام ممالک کے لیے ہے جو امریکا کے زیر اثر پالیسیوں کو عالمی معیار سمجھتے ہیں۔
واشنگٹن کی جانب سے تاحال خاموشی
ابھی تک امریکی حکومت یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس پیغام پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیان نہ صرف بیجنگ-واشنگٹن تعلقات میں مزید کشیدگی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے بلکہ عالمی طاقت کے توازن پر ایک طویل مدتی اثر ڈال سکتا ہے۔
تجزیہ: کیا امریکا بھی ماضی کی سلطنتوں جیسا انجام دیکھے گا؟
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی طاقت اپنے زوال کی جانب بڑھتی ہے تو تکبر، جنگیں، اور سفارتی تنہائی اس کے انجام کو جلدی لے آتی ہے۔ چین کا حالیہ بیان یہی پیغام دے رہا ہے کہ:
"دنیا کسی کے لیے نہیں رکی، نہ اسپین کے لیے، نہ برطانیہ یا فرانس کے لیے، اور اب نہ ہی امریکا کے لیے۔”
چین کے اس نظریاتی اور سیاسی حملے کو ‘سافٹ وار’ کا اہم ہتھیار قرار دیا جا رہا ہے، جو الفاظ کے ذریعے عالمی سطح پر اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش ہے۔
🔍 دنیا ایک نئے عالمی بیانیے کی جانب؟
چین کے صدر کا یہ غیرمعمولی پیغام اس بات کی علامت ہے کہ دنیا یک قطبی نظام (Unipolar World) سے نکل کر کثیر القطبی دنیا (Multipolar World) کی طرف بڑھ رہی ہے، جہاں ہر طاقتور ملک کو اپنے اثر و رسوخ کے دائرے میں رہ کر کام کرنا ہو گا۔
