ایران کا اسرائیل پر 100 میزائلوں سے اب تک کا سب سے بڑا حملہ، 8 اسرائیلی ہلاک، 300 زخمی
ایران نے اسرائیل پر 100 میزائلوں سے اب تک کا سب سے بڑا حملہ کیا جس میں 8 اسرائیلی ہلاک، 300 زخمی ہوگئے۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال شدید ترین کشیدگی کا شکار ہو چکی ہے۔ خطے میں سالوں سے جاری تنازع ایک نئے اور خطرناک موڑ میں داخل ہو گیا ہے، جب ایران نے صبح صادق کے وقت اسرائیل پر اپنی فوجی تاریخ کا سب سے بڑا میزائل حملہ کیا۔
اس حملے میں اسرائیل کے بڑے شہروں تل ابیب، مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) اور حیفہ کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں حیفہ پاور پلانٹ میں شدید آگ بھڑک اٹھی، جب کہ دھماکوں کی آوازوں سے پورا علاقہ لرز اٹھا۔
ایرانی حملوں میں جانی نقصان، عوام میں شدید خوف و ہراس
ایرانی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 8 اسرائیلی شہری ہلاک جبکہ 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی ریسکیو سروس "میگن ڈیوڈ ایڈم” کے مطابق زخمیوں میں سے 14 افراد کی حالت نازک بتائی گئی ہے، جبکہ دیگر کو مختلف درجے کے زخم آئے ہیں۔ تل ابیب کے ایک بڑے اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جہاں درجنوں زخمیوں کا علاج جاری ہے۔
حیفہ پاور پلانٹ نشانے پر، بڑے پیمانے پر بجلی کا تعطل
حیفہ میں میزائل حملے کے بعد پاور پلانٹ میں لگی آگ نے شہر میں بجلی کی فراہمی شدید متاثر کی۔ اسرائیلی وزارت توانائی کے مطابق شہر کے کئی حصے تاریکی میں ڈوب گئے ہیں، اور ریسکیو ٹیمیں آگ بجھانے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ "یہ حملہ ہماری بنیادی توانائی تنصیبات پر براہِ راست حملہ تھا”۔
اسرائیلی میڈیا: دفاعی نظام ناکام، تاریخ کا سب سے بڑا حملہ
اسرائیلی میڈیا، خصوصاً "ٹائمز آف اسرائیل” اور "چینل 12 نیوز” نے ایرانی حملے کو تاریخ کا سب سے بڑا میزائل حملہ قرار دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے "آئرن ڈوم” دفاعی نظام کی کارکردگی اس بار توقعات سے کم رہی اور متعدد ایرانی میزائل اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔
محفوظ کمروں میں بھی جانی نقصان، پیتہ تیکوا میں المناک واقعہ
ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق پیتہ تیکوا میں چار شہری ہلاک ہوئے، جن میں سے دو افراد اپنے گھروں کے محفوظ کمروں میں موجود تھے۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ میزائل ایک ایسی دیوار سے ٹکرایا جو دو مضبوط کمروں کے درمیان تھی۔ دھماکے کی شدت نے محفوظ کمروں کی ساخت کو بھی تباہ کر دیا۔
ایران کا موقف: ’وعدہ صادق 3‘ آپریشن اسرائیلی جارحیت کا ردعمل ہے
ایرانی افواج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ حملہ "وعدہ صادق 3” آپریشن کا حصہ ہے، جو اسرائیلی جارحیت کے جواب میں شروع کیا گیا۔ یاد رہے کہ 13 جون کو اسرائیلی جنگی طیاروں نے تہران، اصفہان اور مشہد سمیت ایران کے مختلف شہروں پر شدید حملے کیے تھے جن میں 224 ایرانی شہری شہید اور 1277 زخمی ہوئے تھے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے ترجمان کے مطابق "جب تک اسرائیل اپنی جارحیت بند نہیں کرتا، ایران کی جانب سے ردعمل جاری رہے گا۔”
جوابی کارروائی میں اسرائیل کا ایران پر وسیع حملہ
ایران کے حملوں کے بعد اسرائیل نے بھی بھرپور جوابی کارروائی کی ہے۔ اسرائیلی فضائیہ نے تہران، قم، اصفہان، خرم آباد اور دیگر شہروں میں اہم فوجی اور صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ایران کے مطابق ان حملوں میں کئی شہریوں کے ساتھ ساتھ جوہری سائنسدانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق اسرائیلی حملوں میں 14 ایرانی جوہری سائنسدان جاں بحق ہوئے، جن میں بعض کا تعلق ایران کے "ایٹمی پروگرام کی قیادت” سے تھا۔
عوامی ردعمل اور علاقائی صورتحال
ایرانی عوام کی جانب سے حکومتی موقف کی حمایت میں مظاہرے کیے جا رہے ہیں جبکہ اسرائیل میں عوام شدید خوف و اضطراب کا شکار ہیں۔ ہزاروں شہری بم شیلٹرز میں منتقل ہو چکے ہیں، اور ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ ہے۔ اسرائیلی حکومت نے تمام اسکول، دفاتر، اور بازار بند کر دیے ہیں۔
تل ابیب، حیفہ اور مقبوضہ بیت المقدس میں نقل و حرکت محدود کر دی گئی ہے۔ کئی علاقوں میں موبائل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہو چکی ہے۔
عالمی برادری کی خاموشی اور خدشات
حیرت انگیز طور پر اب تک امریکہ، اقوامِ متحدہ یا یورپی یونین کی جانب سے کوئی باضابطہ جنگ بندی کی اپیل سامنے نہیں آئی۔ البتہ چین، روس اور قطر نے دونوں فریقین سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
اسرائیلی فوج کا اعلان: ابھی کئی ایرانی اہداف باقی ہیں
اسرائیلی فوجی ترجمان کے مطابق، "ہم نے ایران میں 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے، لیکن ہمارے پاس ابھی بھی ایک طویل فہرست موجود ہے، اور جب تک خطرہ موجود ہے، ہم کارروائی جاری رکھیں گے”۔
ایران کا انتباہ: اسرائیل کو تاریخی سبق سکھائیں گے
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ "اسرائیل نے ہمارے ملک پر حملہ کر کے اپنے لیے ایک تباہ کن انجام کا آغاز کر دیا ہے۔ ہم اسرائیل کو ایسا سبق سکھائیں گے جو تاریخ میں یاد رکھا جائے گا”۔
دوسری جانب، ایران کے نئے آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ "ہماری افواج مکمل طور پر تیار ہیں، اور دشمن کو اس کے ہر جرم کا جواب دیا جائے گا۔”
نتیجہ: مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے بحران کے دہانے پر
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اب مکمل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ حالات مزید پیچیدہ ہو رہے ہیں۔ اگر عالمی برادری نے فوری طور پر مداخلت نہ کی، تو یہ جنگ پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
