صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی آج اہم ملاقات متوقع، خیبرپختونخوا صورتحال پر مشاورت
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان آج اہم ملاقات متوقع ہے، جس میں بالخصوص خیبرپختونخوا کی سیاسی و امن و امان کی صورتحال اور موجودہ سیاسی بحران سے متعلق آئندہ حکمت عملی پر مشاورت کی جائے گی۔
تازہ رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی صدر آصف علی زرداری سے ملاقات آج شام تقریباً 4 بجے ایوانِ صدر میں متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم صدر مملکت کو اہم فیصلوں اور گزشتہ چند روز کے دوران ہونے والی سیاسی مشاورت سے آگاہ کریں گے۔
ملاقات میں خیبرپختونخوا میں جاری سیاسی اور احتجاجی صورتحال بھی اہم موضوع ہوگی۔ حالیہ دنوں میں وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کی کوششیں بھی سیاسی منظرنامے کا اہم حصہ رہی ہیں، جبکہ اب حکومت آئندہ کے لائحہ عمل پر اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ سمیت مختلف آئینی آپشنز پر بھی غور ہوسکتا ہے۔ تاہم ان میں سے کسی اقدام کا حتمی فیصلہ تاحال سامنے نہیں آیا، اس لیے موجودہ مرحلے پر انہیں ممکنہ آپشنز کے طور پر ہی دیکھا جارہا ہے۔
ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے گزشتہ دنوں ہونے والی اہم ملاقاتوں اور مشاورت پر بریفنگ دیے جانے کا بھی امکان ہے۔ تازہ رپورٹنگ کے مطابق حکومتی اور پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کے ساتھ قانونی ماہرین بھی مشاورتی عمل کا حصہ بن سکتے ہیں۔
خیبرپختونخوا کی صورتحال پر وفاقی حکومت کی تشویش نئی نہیں۔ یکم اکتوبر کو بھی صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ایوانِ صدر میں ہونے والی ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی اور امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اس اجلاس میں خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور دہشت گردی کے خلاف اداروں کے درمیان تعاون پر زور دیا گیا تھا۔
اس سے قبل خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی بھی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات کرچکے ہیں۔ دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق گورنر نے کہا تھا کہ اگر صدر اور وزیراعظم صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی کو ضروری سمجھیں تو وہ اپنا آئینی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
موجودہ سیاسی صورتحال میں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات بھی اہمیت اختیار کرچکے ہیں۔ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے ذریعے سیاسی کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کی گئی تھیں، تاہم مذاکراتی عمل میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد اب حکومت کی آئندہ حکمت عملی پر توجہ مرکوز ہے۔
آج ہونے والی متوقع ملاقات میں صدر اور وزیراعظم کو خیبرپختونخوا میں امن و امان، سیاسی صورتحال اور مذاکراتی عمل سے متعلق تازہ پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا۔ اس کے بعد حکومت کی جانب سے صوبے کے حوالے سے آئندہ اقدامات سے متعلق کوئی اہم پیش رفت سامنے آنے کا امکان ہے۔
فی الحال گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ صدر اور وزیراعظم کی مشاورت کے بعد ہی واضح ہوگا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے سیاسی مذاکرات کو ترجیح دیتی ہے یا کسی آئینی اقدام کی طرف بڑھتی ہے۔
