بنگلہ دیش میں سیاسی بحران، محمد یونس نے عبوری سربراہ کے عہدے سے مستعفی ہونے کی دھمکی دیدی
بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے سربراہ اور نوبیل امن انعام یافتہ ماہرِ معاشیات محمد یونس نے خبردار کیا ہے کہ اگر انہیں سیاسی جماعتوں کی مکمل حمایت نہ ملی تو وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے سکتے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق، 84 سالہ محمد یونس نے اپنی کابینہ کو آگاہ کیا ہے کہ وہ موجودہ سیاسی حالات اور بڑھتے دباؤ کے پیشِ نظر اپنی ذمہ داریاں جاری رکھنے کے بارے میں غور کر رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد یونس نے اجلاس میں واضح طور پر کہا:
’’اگر سیاسی قوتیں عبوری حکومت کی پشت پناہی کے لیے متحد نہ ہوئیں تو میں ذمہ داری چھوڑنے پر مجبور ہو جاؤں گا۔‘‘
کابینہ ارکان نے انہیں فوری طور پر استعفیٰ نہ دینے کا مشورہ دیا اور ان سے موجودہ بحران کے حل میں اپنا کردار جاری رکھنے کی درخواست کی۔
پس منظر: حسینہ واجد کے اقتدار کا خاتمہ اور عبوری حکومت کا قیام
بنگلہ دیش میں یہ سیاسی بحران اگست 2024 میں اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب طلبہ کی قیادت میں عوامی بغاوت کے نتیجے میں طویل عرصے سے حکمرانی کرنے والی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو ملک چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس کے بعد محمد یونس کو چیف ایڈوائزر کی حیثیت سے عبوری حکومت کی قیادت سونپی گئی تاکہ انتخابات کے انعقاد تک ملکی نظام کو چلایا جا سکے۔
سیاسی جماعتوں کا عدم تعاون
حالیہ دنوں میں بحران اس وقت مزید پیچیدہ ہو گیا جب متضاد مطالبات کے ساتھ مختلف سیاسی جماعتوں نے دارالحکومت ڈھاکا کی سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے۔
نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے رہنما عارف الاسلام ادیب کے مطابق، حسینہ واجد کے خلاف بغاوت میں شریک طالبعلم رہنما اور سابق عبوری وزیر ناہید اسلام نے جمعرات کی شام محمد یونس سے ملاقات کی۔
اس ملاقات میں محمد یونس نے تسلیم کیا کہ وہ اپنے کردار پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ ناہید اسلام نے انہیں موجودہ بحران میں ثابت قدمی سے قیادت جاری رکھنے پر زور دیا۔
جماعت اسلامی اور دیگر رہنماؤں کا مؤقف
ملک کی بڑی مذہبی سیاسی جماعت جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمٰن نے بھی محمد یونس پر زور دیا ہے کہ وہ تمام فریقوں کو ایک میز پر لانے کے لیے آل پارٹی کانفرنس بلائیں تاکہ قومی سطح پر اتفاق رائے پیدا ہو سکے۔
ایک پارٹی رہنما کے مطابق:
’’یونس کی قیادت پر اگر مکمل اعتماد نہ کیا گیا تو یہ عبوری سیٹ اپ کی ساکھ اور ملک میں جمہوری عمل کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو گا۔‘‘
بی این پی کا دھرنا اور عوامی ردعمل
محمد یونس کے ممکنہ استعفیٰ کی خبریں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے ہزاروں حامیوں نے عبوری حکومت کے خلاف پہلی بار بھرپور عوامی ریلی نکالی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت کو اب ایک بڑے امتحان کا سامنا ہے، جس میں اسے نہ صرف داخلی سیاسی ہم آہنگی پیدا کرنی ہے بلکہ عالمی برادری کو بھی یہ یقین دلانا ہے کہ بنگلہ دیش جمہوری انتخابات کی طرف پرامن انداز میں بڑھ رہا ہے۔
