بھارتی وزیر خارجہ کا پاک بھارت کشیدگی کم کرانے میں امریکی کردار کا اعتراف

اہم خبریںدنیا

بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ایک اہم انٹرویو میں تسلیم کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرانے میں امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ماضی میں بھارتی حکام امریکی کردار کی تردید کرتے رہے ہیں۔

جے شنکر نے کہا کہ جب دو ممالک کشیدہ تعلقات میں مبتلا ہوں، تو یہ معمول کی بات ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک فکرمندی کا اظہار کرتے ہیں اور دونوں فریقین سے رابطے میں رہتے ہیں۔ ان کے مطابق، ’’امریکا نے دونوں ممالک (پاکستان اور بھارت) سے بات کی، اور دیگر بین الاقوامی فریقین نے بھی حالات بہتر بنانے کی کوششیں کیں۔‘‘

’’اصل فیصلہ پاک-بھارت سطح پر ہوا‘‘ – جے شنکر

اگرچہ جے شنکر نے امریکی کوششوں کا اعتراف کیا، تاہم انہوں نے زور دیا کہ جنگ بندی کا اصل فیصلہ پاکستان اور بھارت نے باہمی طور پر کیا۔

’’فائنل کال، ہمارے اور پاکستان کے درمیان براہ راست بات چیت سے آئی۔‘‘

امریکی دعویٰ اور بھارتی تضاد

یاد رہے کہ اس سے قبل بھارتی سیکرٹری خارجہ وکرم مسری نے ایک پارلیمانی کمیٹی میں واضح طور پر کہا تھا کہ ’’کوئی تیسرا فریق شامل نہیں تھا‘‘ اور جنگ بندی مکمل طور پر دو طرفہ بنیادوں پر ہوئی۔

تاہم اس کے برعکس، امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 10 مئی کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر دعویٰ کیا تھا کہ ’’یہ جنگ بندی ہماری کوششوں کا نتیجہ ہے۔‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی ذاتی مداخلت اور سفارتی دباؤ کی وجہ سے دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں کمی آئی۔

پاکستان کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل نہیں

تاحال پاکستان کی وزارتِ خارجہ یا اعلیٰ حکام کی جانب سے جے شنکر کے اس بیان پر کوئی باقاعدہ ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم ماضی میں پاکستان یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ خطے میں امن کے لیے بین الاقوامی برادری کو مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔