عدالت عالیہ میں رٹ پٹیشن سے پہلے محکمانہ داد رسی کی شرط چیلنج: وکلاء برادری سراپا احتجاج

تازہ ترین

 

لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس کی جانب سے جاری کردہ ایک متنازع نوٹیفکیشن، جس میں عدالت عالیہ میں رٹ پٹیشن دائر کرنے سے پہلے "محکمانہ داد رسی” کو لازم قرار دیا گیا ہے، یہ وکلاء اور عوامی حلقوں میں شدید تشویش کا باعث بن گیا ہے۔

ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ملتان نے اس نوٹیفکیشن کو "عوام دشمن اور وکلا دشمن” قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ وکلا کا مؤقف ہے کہ اس شرط سے انصاف تک فوری رسائی کا بنیادی حق متاثر ہو رہا ہے، جو آئین پاکستان کی روح کے منافی ہے۔

ادھر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی اس فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ سے رجوع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ بار کی جانب سے اس اہم مقدمے کی پیروی نامور ماہرِ قانون **سید ریاض الحسن گیلانی ایڈووکیٹ** کریں گے، جو پہلے بھی کئی آئینی و عوامی مقدمات میں نمایاں کردار ادا کر چکے ہیں۔

وکلاء کا کہنا ہے کہ رٹ پٹیشن کا حق شہریوں کو براہِ راست آئین سے حاصل ہے، جس میں غیر ضروری رکاوٹیں پیدا کر کے عوامی مفاد کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

اس ضمن میں وکلاء تنظیمیں ملک بھر میں مشاورت کر رہی ہیں اور امکان ہے کہ آئندہ دنوں میں احتجاجی لائحہ عمل بھی اختیار کیا جائے گا۔

قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ میں یہ معاملہ نہ صرف ایک انتظامی نوٹیفکیشن کا قانونی جائزہ ہوگا بلکہ بنیادی حقوق اور انصاف تک رسائی جیسے اہم آئینی نکات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔