مقتول نے AI کے ذریعے عدالت میں خود گواہی دے دی!

سائنس ٹیکنالوجیسائنس ٹیکنالوجی

امریکا کی ریاست ایریزونا کے شہر چینڈلر میں پیش آنے والا ایک واقعہ ٹیکنالوجی، انصاف اور جذبات کے درمیان ایک حیران کن سنگم بن کر سامنے آیا ہے۔

سال 2021 میں 37 سالہ کرس پیلکی روڈ ریج کے ایک افسوسناک واقعے میں قتل ہو گئے تھے۔ لیکن رواں ماہ، جب ان کے قاتل کو سزا سنانے کا وقت آیا، تو عدالت میں ایسا منظر دیکھنے کو ملا جس پر یقین کرنا مشکل تھا — کرس پیلکی خود "عدالت میں موجود” تھے۔

یہ سب ممکن ہوا مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے۔ کرس کے اہل خانہ نے ان کی تصاویر، ویڈیوز اور آواز کی ریکارڈنگز کو AI سسٹم میں فیڈ کیا، اور ایک متاثر کن ویڈیو تیار کی جس میں کرس خود ایک وِکٹم امپیکٹ اسٹیٹمنٹ پڑھتے دکھائی دیے۔

ویڈیو میں انہیں ایک داڑھی والے سابق فوجی کے روپ میں دکھایا گیا تھا، جو سبز ہُڈی اور سرمئی بیس بال کیپ پہنے ہوئے تھے، بالکل ویسا ہی جیسا وہ اصل زندگی میں نظر آتے تھے۔

یہ غیر معمولی ویڈیو جج ٹوڈ لینگ کے سامنے عدالت میں چلائی گئی۔ اور آخرکار ملزم کو 10.5 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

عدالت میں AI کا استعمال کوئی نئی بات نہیں، لیکن کسی مقتول کو AI کے ذریعے دوبارہ "زندہ” کر کے عدالت میں بولتے دکھانا — یہ پہلی بار ہوا ہے، اور اسی لیے دنیا بھر میں اس پر بحث چھڑ چکی ہے۔

کئی ماہرین کا ماننا ہے کہ AI، متاثرہ شخص کی اصل سوچ، احساسات یا خواہشات کی مکمل نمائندگی نہیں کر سکتا۔ یہ صرف وہ پیغام پہنچاتا ہے جو اہل خانہ یا ڈیویلپرز فیڈ کرتے ہیں۔

کچھ لوگ اسے انصاف کو مزید مضبوط اور پُراثر بنانے کا ایک جدید طریقہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر اسے انسانی جذبات کے ساتھ خطرناک چھیڑ چھاڑ سمجھتے ہیں۔

یہ واقعہ صرف ایک عدالتی کاروائی نہیں، بلکہ ایک بڑے سوال کی صورت میں ہمارے سامنے آیا ہے:
کیا ہم ٹیکنالوجی کو انسانی یادداشت اور انصاف کی آواز بننے دے سکتے ہیں؟

جو طے ہے وہ یہ کہ AI اب صرف سوشل میڈیا یا ایپس تک محدود نہیں، یہ انصاف کے ایوانوں میں بھی داخل ہو چکا ہے، اور اس کا اثر آنے والے دنوں میں مزید گہرا ہونے والا ہے۔