شیطان مرگیا” نانا پاٹیکر کی موت پر تنوشری دتہ کا سخت بیان، بالی ووڈ میں نئی بحث”
ممبئی: بالی ووڈ اداکارہ تنوشری دتہ نے سینئر اداکار نانا پاٹیکر کی موت کے بعد انہیں ’ایول ڈیڈ‘ قرار دیتے ہوئے اپنے سابقہ الزامات کا دوبارہ ذکر کیا ہے، جس کے بعد بھارتی فلم انڈسٹری اور سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، 75 سالہ نانا پاٹیکر 8 اکتوبر 2026 کو بھارتی ریاست گوا میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کی موت کے بعد تنوشری دتہ نے انسٹاگرام اسٹوریز کے ذریعے ردِعمل کا اظہار کیا۔ اداکارہ ماضی میں نانا پاٹیکر پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کر چکی ہیں، جنہیں انہوں نے مسترد کیا تھا۔
تنوشری دتہ نے کیا کہا؟
ابتدائی ردِعمل میں تنوشری دتہ نے کہا کہ انہیں نانا پاٹیکر کی موت کی خبر مل چکی ہے، تاہم وہ اس وقت اپنے پیشہ ورانہ کام پر توجہ دینا چاہتی ہیں۔
اداکارہ نے بتایا کہ وہ ایک تقریب میں شرکت کے لیے لکھنؤ جا رہی ہیں اور انہوں نے اپنے دن کو لائیو سیشنز، سوشل میڈیا پوسٹس اور دیگر مصروفیات کے لیے ترتیب دے رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ فی الحال نانا پاٹیکر کے اہل خانہ سے تعزیت کرتی ہیں اور بعد میں فیصلہ کریں گی کہ اس معاملے پر کس نوعیت کا ردِعمل دینا مناسب ہوگا۔
بعد ازاں تنوشری دتہ نے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے یہ ’شیطان کی موت‘ ہے کیونکہ، ان کے بقول، انہیں طویل عرصے تک پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
سوشل میڈیا پر تنقید اور حمایت
تنوشری دتہ کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے ملے جلے ردِعمل سامنے آئے۔ بعض افراد نے کسی شخص کی موت کے بعد ایسے الفاظ استعمال کرنے پر تنقید کی، جبکہ دیگر نے اداکارہ کے سابقہ الزامات اور ان کے بیان کردہ تجربات کو نظرانداز نہ کرنے پر زور دیا۔
بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس اور ہندوستان ٹائمز کی رپورٹس کے مطابق، گلوکارہ سونا موہا پاترا اور اداکارہ سندھیا مردول سمیت بعض معروف شخصیات نے تنوشری دتہ کی حمایت کی۔ ان کے مؤقف کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ کسی شخص کی موت سے مبینہ ہراسانی کے بارے میں متاثرہ فرد کے تجربات خودبخود ختم نہیں ہو جاتے۔
دوسری جانب، آل انڈین سنی ورکرز ایسوسی ایشن (AICWA) نے تنوشری دتہ کے ’ایول ڈیڈ‘ والے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے نامناسب اور غیر حساس قرار دیا۔ یوں نانا پاٹیکر کی موت کے بعد یہ معاملہ بھارتی فلم انڈسٹری میں ایک نئی بحث کا موضوع بن گیا۔
’می ٹو‘ مہم کے دوران نانا پاٹیکر پر کیا الزام لگایا گیا تھا؟
تنوشری دتہ نے 2018 میں بھارت میں ’می ٹو‘ مہم کے دوران الزام عائد کیا تھا کہ 2008 میں فلم ’ہارن اوکے پلیز‘ کی شوٹنگ کے دوران نانا پاٹیکر نے ان کے ساتھ نامناسب سلوک کیا تھا۔
اداکارہ کے الزامات نے اس وقت بھارتی فلم انڈسٹری میں ہراسانی، خواتین کے تحفظ اور شوبز شخصیات کے احتساب سے متعلق بحث کو نمایاں کیا تھا۔
تنوشری دتہ نے اپنے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا کہ گزشتہ کئی برس ان کے لیے ذہنی اذیت کا باعث بنے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ان کی گاڑی کے بریک فیل کیے گئے تھے۔ تاہم یہ ان کے اپنے دعوے ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
نانا پاٹیکر نے ماضی میں تنوشری دتہ کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا تھا۔
نانا پاٹیکر کی موت کے بعد تنازع کیوں بڑھ گیا؟
نانا پاٹیکر کی موت پر جہاں فلمی دنیا کی متعدد شخصیات نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا، وہیں تنوشری دتہ کے بیان نے ان سے متعلق ماضی کے تنازعات کو دوبارہ خبروں میں نمایاں کر دیا۔
بھارتی میڈیا کی تازہ رپورٹس کے مطابق، اس معاملے پر بحث صرف تنوشری دتہ کے الفاظ تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ہراسانی کے الزامات اور متاثرہ افراد کے تجربات کو کسی ملزم یا الزام کا سامنا کرنے والے شخص کی موت کے بعد کس طرح دیکھا جانا چاہیے۔
تنوشری دتہ کے بیان پر سامنے آنے والے مختلف ردِعمل نے ایک بار پھر بھارتی فلم انڈسٹری میں ’می ٹو‘ مہم، خواتین کے حقوق اور سماجی احتساب سے متعلق بحث کو زندہ کر دیا ہے۔
