پہلگام حملے کے بعد فواد خان کی نئی فلم ’عبیر گلال‘ کے بائیکاٹ کا مطالبہ

انٹرٹینمنٹفلم اور سنیما

مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی علاقے پہلگام (ضلع اننت ناگ) میں 22 اپریل کو ہونے والے مسلح حملے کے بعد ایک بار پھر پاکستانی اداکار فواد خان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جن کی نئی بھارتی فلم ’عبیر گلال‘ آئندہ ماہ 9 مئی کو ریلیز کے لیے شیڈول ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر صارفین کی بڑی تعداد اور چند فلمی تنظیمیں فواد خان کی فلم پر پابندی عائد کرنے اور پاکستانی فنکاروں کو بھارتی فلموں سے دور رکھنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب فواد خان اور بالی وڈ اداکارہ وانی کپور دبئی میں فلم عبیر گلال کی پروموشن میں مصروف ہیں۔ حملے کے بعد بعض صارفین نے یک طرفہ الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ماضی کی طرح اس بار بھی پاکستانی فنکار کی فلم ریلیز سے قبل کشمیر میں حملہ ہوا ہے۔

یاد رہے کہ 2016 میں فواد خان کی فلم ’اے دل ہے مشکل‘ کی ریلیز سے کچھ ہی قبل اڑی سیکٹر میں بھارتی فوجی ہیڈ کوارٹر پر حملہ ہوا تھا، جس کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان فنکاروں کے تبادلوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی تھیں۔

اب تقریباً ایک دہائی بعد، جب فواد خان بھارتی سینما میں واپسی کر رہے ہیں، تو پہلگام حملے کو بنیاد بنا کر ان کی فلم کے خلاف محاذ کھولا جا رہا ہے۔ ٹائمز ناؤ کے مطابق، متعدد بھارتی فلمی تنظیموں نے بھی فلم پر پابندی کی حمایت کی ہے۔

تاہم فلم عبیر گلال کی ٹیم نے اب تک مؤقف اختیار کیا ہے کہ فلم اپنے اعلان کردہ شیڈول کے مطابق 9 مئی کو ریلیز کی جائے گی۔

اس حملے میں 24 افراد ہلاک ہوئے، جن میں سیاح اور بھارتی فوج کے اہلکار شامل تھے۔ فواد خان کی فلم پر اس حملے کو بنیاد بنا کر اعتراض اٹھانے والوں کا مؤقف ہے کہ بھارتی فلم انڈسٹری کو پاکستانی فنکاروں کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہیے۔

دوسری جانب فواد خان کے پاکستانی مداح اس رویے کو غیر منصفانہ قرار دے رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر بھارتی صارفین کے ردعمل پر تنقید کر رہے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا فلم واقعی ریلیز ہوگی یا بھارتی فلمی حلقوں کے دباؤ میں کوئی نیا فیصلہ سامنے آئے گا۔