غزہ میں ظلم جاری، تازہ بمباری میں 45 شہید، یہودی آباد کاروں نے فلسطینیوں کے گھر جلا دیے

اہم خبریںدنیا

اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ میں رات بھر جاری رہنے والی بمباری کے نتیجے میں کم از کم 45 فلسطینی شہید جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ شہداء میں خواتین، بچے اور ایک صحافی بھی شامل ہیں۔ تازہ حملے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کے دوران کیے گئے۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں واقع پناہ گزینوں کے کیمپوں پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں خیموں میں آگ لگ گئی۔ نصیرات کے مغرب میں فراز اللہ خاندان کی پناہ گاہ میں لگنے والی آگ میں 3 بچے زندہ جل گئے۔

صحافی کی شہادت

الاقصیٰ ریڈیو سے منسلک صحافی سعید ابو حسنین بھی حملوں کا نشانہ بنے۔ یہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب صحافی پہلے ہی خطرناک حالات میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

شہادتوں کی مجموعی تعداد

غزہ کی حکومت کے میڈیا آفس کے مطابق، گزشتہ 18 ماہ کے دوران اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں کم از کم 61,700 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں لاپتہ افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جنہیں مردہ تصور کیا جا رہا ہے۔ طبی ذرائع نے شہداء کی تعداد 51,305 اور زخمیوں کی تعداد 1,17,096 بتائی ہے۔

مغربی کنارے میں شدت پسند آباد کاروں کے حملے

اسرائیلی انسانی حقوق تنظیم یش دین نے راملہ کے شمال مشرق میں واقع سنجیل گاؤں پر اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں کی ویڈیوز اور تصاویر جاری کی ہیں۔ ان حملوں میں فلسطینیوں کے گھروں اور زرعی اراضی کو آگ لگا دی گئی۔ تنظیم کے مطابق اسرائیلی فورسز نے حملہ آور آباد کاروں کو نہ صرف تحفظ دیا بلکہ فلسطینیوں کو بچانے کی کوشش کرنے والوں پر آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی۔

سیاسی محاذ پر پیش رفت

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے حماس پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کا انتظام فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عرب اور مغربی طاقتیں امن مذاکرات کے لیے پی اے کو ایک متبادل حکمران کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کا انتباہ

اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (او سی ایچ اے) نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے امدادی سامان کی بندش، مسلسل بمباری، اور نقل و حرکت پر پابندیوں کے سبب غزہ کے عوام انسانی بقا کی بنیادی ضروریات سے محروم ہو چکے ہیں۔ او سی ایچ اے نے موجودہ صورتحال کو اکتوبر 2023 کے بعد سے بدترین انسانی بحران قرار دیا ہے۔

امریکی حمایت یافتہ بمباری کی حمایت

اسرائیل کے انتہاپسند وزیر قومی سلامتی عمار بن گویر نے کہا ہے کہ امریکی ریپبلکن قانون ساز غزہ میں خوراک اور امدادی ڈپو پر بمباری کی ان کی پالیسی کی حمایت کر رہے ہیں، جس نے عالمی سطح پر مزید تشویش کو جنم دیا ہے۔