پنجاب میں میٹرک ٹیک کی تعلیم میں انقلابی قدم – "پیکٹا” کے ذریعے جدید تعلیمی نظام کا آغاز
لاہور: پنجاب میں تعلیم، تدریس اور تربیت کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اہم پیش رفت، تین تعلیمی اداروں کے انضمام سے بنائی گئی پنجاب ایجوکیشن، کریکلم، ٹریننگ اینڈ اَسیسمنٹ اتھارٹی (پیکٹا) کو فعال کر دیا گیا۔
وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات کی زیر صدارت پیکٹا کے بورڈ آف گورنرز کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں میٹرک ٹیک کے نئے سلیبس کی منظوری بھی دی گئی، جو ٹیکنیکل ایجوکیشن کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
پیکٹا: تعلیم، تدریس اور امتحانات کا نیا مربوط نظام
وزیر تعلیم نے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیکٹا کے قیام سے نصاب، اساتذہ کی تربیت اور امتحانی نظام کو ایک مربوط پلیٹ فارم پر لایا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف کمیٹیوں کی تشکیل کی جا چکی ہے، جو نظام کے بہتر نفاذ میں معاون ثابت ہوں گی۔
میٹرک ٹیک: عملی تعلیم کی جانب اہم قدم
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ:
✅ میٹرک ٹیک کے لیے نیا سلیبس متعارف کرایا جائے گا، جو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوگا۔
✅ اساتذہ کی استعداد کار بڑھانے کے لیے خصوصی تربیتی کورسز متعارف کرائے جائیں گے، تاکہ وہ جدید ٹیکنالوجیز اور عملی تعلیم کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
✅ ہر تعلیمی سیشن میں درسی کتب کی بروقت پرنٹنگ اور ترسیل کو یقینی بنایا جائے گا۔
✅ ٹیک کورسز اپریل کے آغاز تک تمام سکولوں میں مہیا کیے جائیں گے تاکہ طلبہ کو جلد از جلد جدید تعلیم سے مستفید کیا جا سکے۔
"پیکٹا” کے قیام میں کن اداروں کا انضمام ہوا؟
پیکٹا کے قیام کے لیے پنجاب کریکلم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ، پنجاب ایگزامینیشن کمیشن اور قائداعظم اکیڈمی فار ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ کو ضم کیا گیا ہے۔
پیکٹا بورڈ آف گورنرز – چوٹی کے ماہرین شامل
چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر شہنشاہ فیصل عظیم نے اجلاس کے دوران پیکٹا کی ورکنگ پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ان کا کہنا تھا کہ پیکٹا کے بورڈ آف گورنرز میں ملک کے نامور ماہرین تعلیم شامل ہیں، جو تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: یونیورسٹی آف سدرن پنجاب نہ صرف معیاری تعلیم بلکہ جدید تحقیق کے مواقع بھی فراہم کر رہی ہے:ریکٹرڈاکٹر محمدمختار
شرکاء اجلاس اور اہم ہدایات
اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری برائے تعلیم نوشین عدنان، سیکرٹری سکولز ایجوکیشن خالد نذیر وٹو، ایم پی ایز اسامہ فضل، عاصمہ ناز عباسی، شکیلہ جاوید اور معروف ماہرین تعلیم ڈاکٹر فیصل باری، سرمد یوسف، شہزاد رائے، عنبرین عجائب، معیز نذیر سمیت دیگر نمائندگان نے شرکت کی۔
وزیر تعلیم پنجاب نے اجلاس کے دوران محکمانہ میٹنگز کو پیپر لیس کرنے کی بھی ہدایت دی، تاکہ جدید ڈیجیٹل نظام کو فروغ دیا جا سکے۔
نتیجہ: تعلیم میں جدیدیت کی نئی راہ
پیکٹا کی تشکیل سے پنجاب میں تعلیم، تدریس اور امتحانات کا نیا دور شروع ہو رہا ہے۔ خاص طور پر میٹرک ٹیک کے ذریعے طلبہ کو جدید، عملی اور ہنر پر مبنی تعلیم فراہم کی جائے گی، جو مستقبل میں انہیں بہتر مواقع فراہم کرے گی۔
"میٹرک ٹیک”—پنجاب میں تعلیم کی نئی سمت
پنجاب حکومت نے پیکٹا (Punjab Education Curriculum, Training & Assessment Authority – PECTA) کے قیام کے ساتھ تعلیمی اصلاحات کی جانب بڑا قدم اٹھایا ہے۔ اس اتھارٹی کے ذریعے نصاب، تربیت اور امتحانات کو ایک مربوط نظام میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور خاص طور پر میٹرک ٹیک کو مؤثر بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
میٹرک ٹیک—کیا ہے اور کیوں ضروری؟
میٹرک ٹیک ایک ایسا تعلیمی پروگرام ہے جو روایتی تعلیمی نصاب کے ساتھ ساتھ ٹیکنیکل اور ووکیشنل ایجوکیشن کو بھی شامل کرتا ہے۔ اس کے ذریعے طلبہ کو جدید مہارتوں سے لیس کیا جاتا ہے تاکہ وہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملازمت کے بہتر مواقع حاصل کر سکیں یا اپنا کاروبار شروع کر سکیں۔
کون سے طلبہ مستفید ہوں گے؟
وہ طلبہ جو ٹیکنیکل مہارتیں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
جو تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر سیکھ کر نوکری یا کاروبار کرنا چاہتے ہیں۔
جنہیں روایتی نصاب کے بجائے پریکٹیکل لرننگ میں دلچسپی ہے۔
میٹرک ٹیک—پاکستان کی معیشت کے لیے کیوں اہم؟
ہنرمند افرادی قوت میں اضافہ ہوگا، جو ملکی معیشت کے لیے فائدہ مند ہے۔
بے روزگاری کم ہوگی کیونکہ طلبہ کو عملی مہارتیں دی جائیں گی۔
انڈسٹری اور تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط تعلق قائم ہوگا۔
حکومت کا عزم
وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات کا کہنا ہے کہ پیکٹا کے قیام سے تعلیم کے شعبے میں نئی جہتوں کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ اتھارٹی کے ذریعے اساتذہ کی ٹریننگ، نصاب کی بہتری، اور امتحانات کے شفاف نظام کو یقینی بنایا جائے گا۔
