امریکہ نے فلسطین کے حق میں احتجاج کرنے والے 300 غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کر دیے

اہم خبریںدنیا

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے تصدیق کی ہے کہ فلسطین کے حامی مظاہرین کے خلاف کارروائیوں کے تحت امریکہ نے کم از کم 300 غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کر دیے ہیں۔

گیانا میں مارکو روبیو کا بیان

مارکو روبیو نے گیانا کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کے حامی مظاہرین کے خلاف کارروائیاں روزانہ کی بنیاد پر جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "یہ تعداد اب 300 سے بھی زیادہ بڑھ چکی ہو سکتی ہے، کیونکہ جب بھی کسی مظاہرہ کرنے والے کے بارے میں علم ہوتا ہے، تو ہم ویزا منسوخ کر دیتے ہیں۔”

رومیسا اوزترک کی گرفتاری

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی حکام نے ٹفٹس یونیورسٹی کی ترک طالبہ رومیسا اوزترک کو گرفتار کیا۔ رومیسا اوزترک نے گزشتہ سال یونیورسٹی کے اخبار میں ایک مضمون لکھا تھا جس میں انہوں نے اسرائیل سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں سے یونیورسٹی کی سرمایہ کاری واپس لینے اور فلسطینی نسل کشی کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

ابھی تک رومیسا اوزترک پر لگائے گئے الزامات کی تفصیل سامنے نہیں آئی، تاہم یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا ان کی گرفتاری صرف ان کے خیالات اور اظہار رائے کی بنیاد پر ہوئی ہے۔

امریکی حکومت کی پالیسی

مارکو روبیو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "اگر آپ امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے ویزا لیتے ہیں اور آپ کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آپ یونیورسٹیوں میں توڑ پھوڑ کریں، طلبہ کو ہراساں کریں، عمارتوں پر قبضہ کریں یا انتشار پھیلائیں، تو ہم آپ کو ویزا نہیں دیں گے۔”

امریکی حکومت کا یہ اقدام اس پالیسی کا حصہ ہے جو ٹرمپ انتظامیہ نے اپنائی تھی، جس میں غیر شہریوں کو ملک بدر کرنے کے اختیارات دئیے گئے تھے جو امریکی خارجہ پالیسی یا قومی سلامتی کے خلاف کام کرتے ہیں۔

آزادیِ اظہار پر سوالات

رومیسا اوزترک کی وکیل، مہسا، نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اوزترک کی گرفتاری ان کی آزادیِ اظہارِ رائے کے حق پر حملہ ہے۔ ان کے مطابق، رومیسا اوزترک کی گرفتاری ایک سیاسی بیان دینے کی وجہ سے کی گئی ہے، جو کہ اظہار رائے کی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات

ٹرمپ انتظامیہ نے 2019 میں ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے اینٹی سیمیٹزم (یہود مخالف سرگرمیاں) کے خلاف کارروائی کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد سے فلسطین کے حامی مظاہرین کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، اور غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کرنے کی پالیسی میں شدت آئی ہے۔