آئی ایم ایف کے درمیان جاری مذاکرات اہم مرحلے میں داخل،605 ارب روپے کے شارٹ فال کو پورا کرنے کیلئے تفصیلات پیش
پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان جاری مذاکرات اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، جن کا مقصد قرض پروگرام کی اگلی قسط کا فوری اجرا ہے۔ ان مذاکرات میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) حکام نے ٹیکس وصولیوں میں 605 ارب روپے کے شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے اپنی حکمت عملی کی تفصیلات آئی ایم ایف کو پیش کر دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق، وزارتِ خزانہ، ایف بی آر اور توانائی کے حکام نے اپنی کارکردگی رپورٹس گزشتہ ہفتے آئی ایم ایف کو پیش کیں، جن پر آج کے مذاکرات میں آئی ایم ایف اپنا ردعمل دے گا۔ وزارتِ خزانہ نے کرنٹ اکاؤنٹ، مالی خسارہ کنٹرول کرنے اور بین الاقوامی فنانسنگ پر بریفنگ دی، جبکہ اصلاحات اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی بڑھانے کی تفصیلات بھی فراہم کی گئیں۔
ایف بی آر حکام نے آئی ایم ایف وفد کے ساتھ رئیل اسٹیٹ، پراپرٹی، بیوریجز اور تمباکو سیکٹر کے لیے ریلیف کی تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس کے علاوہ، اگلے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے کی تجویز اور ریٹیل سیکٹر سمیت مختلف شعبوں سے 250 ارب روپے ٹیکس وصولی کے منصوبے پر بھی بات چیت ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کا 1250 ارب روپے کی حکومتی قرضہ حکمت عملی پر اعتراض
وزارتِ پیٹرولیم اور توانائی کے حکام نے آئی ایم ایف کو بریفنگ میں بتایا کہ توانائی کے شعبے میں گردشی قرض میں کمی کے لیے کمرشل بینکوں سے 1250 ارب روپے 10.8 فیصد شرح سود پر قرض لیا جائے گا۔ آئی ایم ایف حکام کو گردشی قرض، بجلی بلوں میں کمی، ریکوری اور لائن لاسسز کم کرنے پر بھی بریفنگ دی گئی۔
حکومتِ پاکستان نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا ہے کہ ٹیکس وصولی کے شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے کوئی منی بجٹ نہیں لایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے، عدالتوں میں زیرِ التوا ٹیکس مقدمات کو جلد نمٹانے کا منصوبہ پیش کیا گیا ہے، اور حکومت نے عدالتوں میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ان اقدامات کا مقصد ٹیکس وصولیوں میں کمی کو پورا کرنا اور معیشت کو مستحکم کرنا ہے، تاکہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت قرض کی اگلی قسط کا اجرا ممکن ہو سکے۔
