کینسر کے علاج میں اے آئی ٹیکنالوجی ڈاکٹرز کا متبادل نہیں ہو سکتی، تحقیق
کینسر کے علاج میں مصنوعی ذہانت (AI) کس حد تک مددگار ثابت ہو سکتی ہے؟ موفٹ کینسر سینٹر اور مشی گن یونیورسٹی کے محققین کی قیادت میں کی گئی ایک نئی تحقیق نے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی ڈاکٹروں کو بہتر فیصلے کرنے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن یہ اکیلے قابلِ اعتماد نہیں ہے۔
مطالعہ میں پھیپھڑوں اور جگر کے کینسر کے لیے ریڈیو تھراپی کے علاج پر توجہ مرکوز کی گئی۔ تحقیق کے دوران ڈاکٹروں کو دو مراحل میں کینسر کے مریضوں کے لیے علاج کے فیصلے کرنے کو کہا گیا: پہلے بغیر اے آئی کی مدد کے، اور پھر اے آئی کی پیش کردہ تجاویز کے ساتھ۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ اے آئی ڈاکٹروں کے فیصلوں کو زیادہ مستقل اور ہم آہنگ بنانے میں مددگار ثابت ہوئی، جس سے مختلف ڈاکٹروں کے درمیان علاج کے طریقوں میں فرق کم ہوا۔
اگرچہ اے آئی کی تجاویز اکثر کارآمد تھیں، لیکن تمام معاملات میں ڈاکٹروں نے ان پر انحصار نہیں کیا۔ کچھ کیسز میں ڈاکٹروں نے اے آئی کی تجاویز سے اختلاف کرتے ہوئے اپنے تجربے اور مریض کی مخصوص حالت کو ترجیح دی۔
تحقیق میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ ڈاکٹر اور اے آئی کے درمیان تعاون ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ٹیکنالوجی اور انسانی فیصلہ سازی میں ہم آہنگی پیدا کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
یہ تحقیق اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ کینسر جیسے پیچیدہ امراض کے علاج میں اے آئی ایک معاون ٹول کے طور پر کارآمد ہو سکتی ہے، لیکن حتمی فیصلے کے لیے ڈاکٹروں کے تجربے اور مریض کے مخصوص حالات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مستقبل میں اے آئی اور انسانی مہارت کے درمیان بہتر تعاون کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ علاج کے نتائج کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
