افغانستان کے الزامات، محسن نقوی کا دورہ اور ملک ریاض کے معاملے پر دفتر خارجہ پاکستان کی وضاحت آگئی
پاکستان نے افغانستان کے داعش کی معاونت کے حوالے سے الزامات مسترد کردئیے، وزیر داخلہ کے دورے کی وضاحت کردی۔
اسلام آباد: پاکستان نے افغانستان کی جانب سے داعش کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں داعش کے کسی بھی کیمپ کی موجودگی کی تردید کی ہے اور پاکستان داعش کی معاونت نہیں کر رہا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کرتا رہا ہے اور ان کے الزامات حقیقت سے بے خبر ہیں۔
داعش کی معاونت کے الزامات کا جواب
پاکستان نے افغانستان کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں پناہ گزین دہشت گرد گروپوں کی موجودگی اور ان کے کاموں کا پاکستان پر الزام ڈالنا غیر منصفانہ ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ، "پاکستان داعش کی کسی بھی سرگرمی یا معاونت میں ملوث نہیں ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "ہم اس بات کی سختی سے تردید کرتے ہیں کہ پاکستان میں داعش کے کیمپس ہیں۔ ہمارے ملک میں اس تنظیم کی کسی بھی قسم کی پناہ گاہوں کا کوئی وجود نہیں۔” یہ وضاحت افغان حکام کی طرف سے حالیہ دنوں میں پاکستان پر دہشت گرد گروپوں کی معاونت کے الزامات کے بعد سامنے آئی ہے۔
وزیر داخلہ کا دورہ اور وزارت خارجہ کا کردار
ایک اور اہم موضوع جس پر شفقت علی خان نے وضاحت دی، وہ وزیر داخلہ محسن نقوی کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت تھا۔ ترجمان نے بتایا کہ وزیر داخلہ نے وزیراعظم کی اجازت سے اس تقریب میں شرکت کی اور وزارت خارجہ کا اس دورے میں کوئی کردار نہیں تھا۔
انہوں نے کہا، "وزیر داخلہ کا دورہ وزیراعظم کی منظوری سے کیا گیا تھا اور اس میں وزارت خارجہ کی مداخلت نہیں تھی۔”
افغان ہتھیاروں کی واپسی
افغانستان سے امریکی ہتھیاروں کی واپسی کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے شفقت علی خان نے کہا کہ یہ معاملہ دراصل دو حکومتوں کے درمیان ہے اور افغانستان کی عبوری حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان ہتھیاروں کو دہشت گرد گروپوں کے ہاتھوں میں جانے سے روکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس معاملے میں ایک ثالث کے طور پر کردار ادا کرنے کو تیار ہے لیکن اس کے بارے میں کوئی سرکاری بات چیت نہیں ہوئی۔
ملک ریاض کی ایکسٹراڈیشن کے حوالے سے دفتر خارجہ کا بیان
دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے ملک ریاض کی ایکسٹراڈیشن کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اس بارے میں تفصیلات حاصل کرنے کے بعد ہی اس پر مزید وضاحت دی جا سکتی ہے
کشمیر اور قیدیوں کی واپسی
کشمیر کے حوالے سے، ترجمان نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ قیدیوں کی واپسی کے معاملے پر مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ "پاکستانی سفارتخانہ اس مسئلے پر متحرک ہے اور ہم بھارت کے ساتھ اس بارے میں مسلسل رابطے میں ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ اگرچہ کچھ قیدی ایسے بھی ہیں جو سفارتخانہ سے بات نہیں کرنا چاہتے، تاہم ویانا کنونشن کے مطابق بیرون ملک قید قیدیوں پر کسی قسم کا دباؤ ڈالنا ممکن نہیں۔ اس کے باوجود پاکستان اس معاملے کو حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔
اسرائیل کے حملے کی مذمت اور فلسطین
پاکستان نے جنین کیمپ پر اسرائیل کے حالیہ حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ اسرائیلی حملوں نے نہ صرف فلسطینی عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر انسانی حقوق کی پامالی کا ایک اور مظہر پیش کیا ہے۔
انہوں نے غزہ میں 19 جنوری کو ہونے والی جنگ بندی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے بعد قیدیوں کی رہائی کا عمل بھی ایک مثبت قدم ہے۔ اس جنگ بندی میں مصر، قطر اور امریکا کا کردار اہم تھا اور پاکستان ان ممالک کے اس اقدام کی تعریف کرتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں پر پاکستان کی پالیسی
شفقت علی خان نے پاکستان کی موسمیاتی پالیسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے اور اس حوالے سے پاکستان نے پیرس معاہدے کے تحت اپنے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اپنی پالیسیوں کو مزید مستحکم کرے گا۔
برکس اور عالمی تعلقات
ترجمان نے پاکستان کے عالمی تعلقات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ پاکستان برکس تنظیم میں شمولیت کے لیے پرعزم ہے اور اس حوالے سے کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اپنی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔
دیگر اہم امور
پاکستان نے نیدرلینڈز کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی بات کی۔ ترجمان نے بتایا کہ اس ہفتے نیدرلینڈز کے وفد کے ساتھ مختلف اقتصادی، ثقافتی اور تجارتی شعبوں میں بات چیت ہوئی، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔
اس کے علاوہ، پاکستان نے گزشتہ ہفتے کے المناک کشتی ڈوبنے کے حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا جس میں 22 پاکستانی زندہ بچ گئے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ ان کی وطن واپسی کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں اور پاکستان مراکش حکومت کا اس تعاون پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔
