پاکستان تحریک انصاف کا 190 ملین پاؤنڈ کیس کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان

اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

پاکستان تحریک انصاف نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کے فیصلے کو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

عدالتی فیصلہ

احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے القادر یونیورسٹی ٹرسٹ سے متعلق ریفرنس میں عمران خان کو کرپٹ پریکٹسز پر 14 سال قید اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی۔ ساتھ ہی عمران خان پر 10 لاکھ روپے اور بشریٰ بی بی پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔ عدالت نے القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم بھی جاری کیا۔

پی ٹی آئی کا مؤقف

پی ٹی آئی رہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس فیصلے کی مذمت کی اور اعلان کیا کہ یہ فیصلہ اعلیٰ عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔

عمر ایوب نے کہا:

"سوال یہ ہونا چاہیے کہ حسن نواز نے لندن میں ون ہائیڈ پارک کی عمارت خریدنے کے لیے پیسہ کیسے باہر بھیجا اور پھر اس عمارت کو فروخت کر کے اس رقم کو کہاں استعمال کیا؟ وہ آزاد گھوم رہے ہیں، لیکن عمران خان جیسے ایماندار شخص کو سزا دی جا رہی ہے۔”

شبلی فراز کا ردعمل

سینیٹر شبلی فراز نے بھی فیصلے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا:

"اس ملک میں چور آزاد گھوم رہے ہیں، جبکہ وہ لوگ جو نبی کریم ﷺ کی سیرت کو پڑھانے کے لیے القادر یونیورسٹی جیسے ادارے قائم کر رہے تھے، انہیں سزا دی جا رہی ہے۔”

شبلی فراز کا مزید کہنا تھا کہ:

"القادر یونیورسٹی کے قیام سے حکومت کو ایک دھیلے کا نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی عمران خان یا بشریٰ بی بی کے اکاؤنٹس میں کوئی رقم منتقل ہوئی۔ ان کا مقصد نوجوان نسل کو سیرت النبی ﷺ پڑھانا اور انہیں بہتر مستقبل کی طرف لے جانا تھا، لیکن ایسے نیک کاموں پر بھی سزا دی جا رہی ہے۔”

پارٹی کی حکمت عملی

پاکستان تحریک انصاف نے واضح کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف بھرپور قانونی جنگ لڑیں گے اور عوام کے سامنے حکومت کی جانب سے کی جانے والی زیادتیوں کو بے نقاب کریں گے۔