190 ملین پاؤنڈ کیس: القادر یونیورسٹی وفاقی حکومت کے حوالے کرنیکا حکم
راولپنڈی کی احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں نہ صرف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سزا سنائی بلکہ القادر یونیورسٹی کو بھی وفاقی حکومت کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔
تین بار مؤخر کیے جانے والے اس کیس کا فیصلہ احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے سنایا، جس میں عمران خان کو 14 سال قید اور بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا دی گئی۔ عدالت نے مزید حکم دیا کہ القادر یونیورسٹی کا انتظام وفاقی حکومت سنبھالے۔
القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کی وجہ سے عمران خان اور بشریٰ بی بی کو کافی عرصے سے قانونی مشکلات کا سامنا تھا۔ ان پر نیب کی جانب سے اختیارات کے غلط استعمال اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
سیاسی حمایت اور وسیع تشہیر کے باوجود القادر یونیورسٹی کے ابتدائی چار سالوں میں صرف 200 طلبہ نے داخلہ لیا۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے "خوابوں کا منصوبہ” سمجھی جانے والی اس یونیورسٹی کا مقصد نوجوان نسل کو اعلیٰ تعلیم اور اسلامی اقدار کی تعلیم دینا تھا۔
القادر یونیورسٹی کا قیام عمران خان کی حکومت کے دوران کیا گیا تھا، جسے ایک مثالی تعلیمی ادارہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ تاہم، مبینہ کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کی وجہ سے یہ منصوبہ نہ صرف تنازعات کا شکار ہوا بلکہ عدالت کے ذریعے حکومتی تحویل میں بھی چلا گیا۔
یہ فیصلہ ملک میں احتسابی عمل کی اہمیت اور اثرات پر مزید بحث کو جنم دے رہا ہے۔
