بھارت کا اعلی ترین سطح پر طالبان سے پہلا رابطہ،انڈیا کو اہم شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں، افغان دفتر خارجہ
بھارت کے سیکرٹری خارجہ وکرم مسری نے طالبان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی سے اہم ملاقات کی ہے، جو طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطح کا پہلا براہ راست رابطہ ہے۔
یہ ملاقات ایک ایسے وقت پر ہوئی ہے جب افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
افغان طالبان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، افغانستان نے بھارت کو ایک "اہم علاقائی اور معاشی شراکت دار” کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ اس ملاقات کے بعد یہ بیان سامنے آیا، جو دونوں ملکوں کے اعلٰی سفارتی عہدیداروں کے درمیان ہونے والی بات چیت کا نتیجہ تھا۔
یہ ملاقات اور اس میں ہونے والی گفتگو اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں ایک نیا باب کھل رہا ہے۔ اس ملاقات کو افغانستان میں طالبان کی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کی جانب سے کیے جانے والے پہلے اہم سفارتی رابطے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
چابہار بندرگاہ اور تجارتی تعلقات پر بات چیت
افغانستان کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے افغانستان کے ساتھ بھارت کے تعلقات کو مزید وسعت دینے اور ایران کی چابہار بندرگاہ کے ذریعے تجارتی روابط کو فروغ دینے پر بات کی۔ بھارت نے چابہار بندرگاہ کو پاکستان کی گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں کے مقابلے کے طور پر استعمال کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے تاکہ وہ وسط ایشیا تک تجارت کے نئے راستے کھول سکے۔
افغان وزارت خارجہ کے مطابق، "افغانستان کی متوازن اور معیشت پر مرکوز خارجہ پالیسی کے مطابق امارت اسلامیہ کا مقصد انڈیا کے ساتھ ایک اہم علاقائی اور اقتصادی شراکت دار کے طور پر سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔” اس کے ساتھ ہی بھارت نے افغانستان میں ترقیاتی منصوبوں میں حصہ لینے اور تجارتی تعلقات کو مزید بڑھانے پر غور کرنے کی بات کی ہے۔
بھارت کی امداد اور ترقیاتی منصوبے
ملاقات کے دوران بھارت نے افغانستان کے عوام کی مدد کے لیے جاری امداد کے علاوہ وہاں نئے ترقیاتی منصوبوں کے آغاز پر بھی اتفاق کیا۔ تاہم، یہ بات قابل ذکر ہے کہ انڈیا سمیت دنیا کا کوئی بھی ملک طالبان انتظامیہ کو افغانستان کی سرکاری حکومت کے طور پر تسلیم نہیں کرتا، اور اس ملاقات کے باوجود افغانستان کی حکومت کی حیثیت عالمی سطح پر متنازعہ ہے۔
پاکستان اور طالبان کا تعلق
پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے اس ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات ان لوگوں کے لیے سبق ہے جو برسوں تک یہ مانتے رہے کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار کی بدولت بھارت کو وہاں سے نکالنے میں مدد ملے گی۔ ان کے مطابق، بھارت اور طالبان کے درمیان تعلقات کا آغاز اس بات کا غماز ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں بھارت کے مفادات کو نظرانداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔
