امریکی صدر جو بائیڈن کا اپنے بیٹے کو سرکاری معافی دینے کا اعلان

اہم خبریںدنیا

امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے بیٹے ہنٹر بائیڈن کو دو مختلف قانونی مقدمات میں سزا کے باوجود صدارتی معافی دینے کا اعلان کیا ہے۔

صدر بائیڈن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کے بیٹے کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنایا گیا اور ان کے خلاف قانونی کارروائیاں ناانصافی پر مبنی تھیں۔

ہنٹر بائیڈن، جو کسی بھی موجودہ امریکی صدر کے پہلے بیٹے ہیں جنہیں جرم میں ملوث ہونے کے الزامات کا سامنا ہے، نے رواں سال ستمبر میں ٹیکس فراڈ کے مقدمے میں اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کا اعتراف کیا تھا۔ اس سے قبل جون میں انھیں غیر قانونی طور پر آتشیں اسلحہ رکھنے اور ماضی میں منشیات کے استعمال کی عادت کے بارے میں جھوٹ بولنے کے جرم میں قصوروار پایا گیا تھا۔

صدر جو بائیڈن نے جون میں یہ اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو معافی نہیں دیں گے اور نہ ہی اس کی سزا میں کمی کریں گے۔ تاہم حالیہ بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ عدالتی نظام کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں، لیکن ان کے بیٹے کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ غیر منصفانہ تھا اور اس پر انہوں نے معافی دینے کا فیصلہ کیا۔

صدر بائیڈن کے اس فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے اختیارات کے ناجائز استعمال اور انصاف کا قتل قرار دیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ فیصلہ امریکی عوام کے لیے ایک دھچکہ ہے اور انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔

صدر بائیڈن کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ امریکی عوام ان کے فیصلے کو ایک والد کی محبت اور انصاف کے دفاع کے طور پر دیکھیں گے، اور ان کے بیٹے کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو سمجھیں گے۔