کارکنوں کی گرفتاریوں اور ہلاکتوں کا حساب دینا ہوگا،مہربانو قریشی
پاکستان تحریک انصاف کی رہنما اور شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی مہر بانو قریشی نے کہا ہے کہ 8 فروری کو عوام کے حق پر ڈاکا ڈالا گیا اور ووٹ کو چھینا گیا۔ انہوں نے ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کارکنوں کی گرفتاریوں اور ہلاکتوں کا حساب دینا ہوگا، اور انصاف کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مہر بانو قریشی نے کہا کہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے غیر شفاف عناصر، جنہیں انہوں نے "فارم 47 والے” قرار دیا، سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے افراد کو بچانے کی کوششوں سے ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے 26 نومبر اور 9 مئی کے واقعات پر تنقید بھی کی۔
مہر بانو قریشی نے 26 نومبر کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلے کہا گیا کہ گولی نہیں چلی، لیکن نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے سینیٹ میں ہوائی فائرنگ کا اعتراف کیا ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کو انصاف دینے کا مطالبہ کیا، خاص طور پر ان ماؤں کے لیے جنہوں نے اپنے بچے کھو دیے۔
یہ بھی پڑھیں: مہربانو قریشی نے شکست تسلیم کر لی
انہوں نے مزید کہا کہ 9 مئی کے واقعات کے خلاف جھوٹے بیانیے گھڑے گئے، اور ان کے امیدوار آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ مہر بانو قریشی نے علی موسیٰ گیلانی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ جیتے نہیں۔
مہر بانو قریشی نے زور دیا کہ عوام کو انصاف دینا حکومت کی ذمہ داری ہے اور اداروں کی ساکھ بحال کرنا سب سے اہم ہے۔ انہوں نے عوامی ووٹ کے تحفظ اور شفاف انتخابات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
