امریکا میں دوسری مرتبہ ڈونلڈ ٹرمپ صدر منتخب، کملا ہیرس کو شکست
امریکا میں ہونے والے 2024 کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری مرتبہ صدر بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ انہوں نے ڈیموکریٹ امیدوار کملا ہیرس کو شکست دے کر 47ویں امریکی صدر کی حیثیت سے عہدہ سنبھالا۔ انتخابی نتائج کے مطابق، ٹرمپ نے 538 میں سے 277 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے، جبکہ کملا ہیرس کو 226 ووٹ ملے۔
ایوانِ نمائندگان میں بھی ریپبلکن پارٹی کو برتری حاصل ہوئی ہے، جہاں ریپبلکنز نے 188 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جبکہ ڈیموکریٹس نے 160 نشستیں اپنے نام کیں۔ مجموعی طور پر، امریکا کی 50 ریاستوں میں سے 27 میں ٹرمپ نے کامیابی حاصل کی، جبکہ کملا ہیرس نے 19 ریاستوں میں برتری حاصل کی۔
سینیٹ کے انتخابات میں بھی ریپبلکن پارٹی نے اکثریت حاصل کرلی
سینیٹ کے انتخابات میں بھی ریپبلکن پارٹی نے اکثریت حاصل کرلی ہے۔ 100 نشستوں پر مشتمل سینیٹ میں ریپبلکن پارٹی نے 51 نشستیں حاصل کیں، جبکہ ڈیموکریٹس نے 43 نشستیں جیتیں۔

فتح کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کا خطاب
فلوریڈا کے شہر پام بیچ میں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے اپنی جیت کو ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا، "آج امریکا نے تاریخ رقم کی ہے، اور اب ملک کو مضبوط، محفوظ اور خوشحال بنائیں گے
” ٹرمپ نے وعدہ کیا کہ وہ امریکی عوام کے لیے ملک کے تمام اہم مسائل کو حل کریں گے اور امریکا کو دوبارہ عظیم بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے اپنی کامیابی پر حامیوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ "یہ فتح آپ کے ووٹوں کی بدولت ممکن ہوئی۔”
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کی پالیسی نئی جنگیں شروع کرنے کی نہیں بلکہ موجودہ تنازعات کا خاتمہ کرنے کی ہوگی۔ انہوں نے دنیا بھر میں امن کے فروغ کے لیے عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ
"ہم جنگ کے بجائے ترقی اور خوشحالی کو ترجیح دیں گے۔”
پولنگ کا عمل اور وقت کے مختلف زونز
امریکا میں 2024 کے انتخابات میں پولنگ کے عمل کا آغاز امریکی وقت کے مطابق مختلف ریاستوں میں مختلف اوقات پر ہوا۔ مختلف ٹائم زونز کے باعث مشرقی ریاستوں میں پولنگ پہلے بند ہوئی جبکہ مغربی ریاستوں میں یہ عمل بعد میں مکمل ہوا۔ سب سے آخر میں الاسکا اور ہوائی میں ووٹنگ ختم ہوئی۔
کامیابی کے لیے الیکٹورل ووٹ کی اہمیت
امریکی انتخابات میں جیتنے کے لیے کسی بھی امیدوار کو کم از کم 270 الیکٹورل ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ 2024 میں ہونے والے ان انتخابات میں تقریباً 78.9 ملین ووٹرز نے پہلے سے ہی ووٹ ڈال دیا تھا، جس نے الیکشن کے نتائج پر فیصلہ کن اثر ڈالا۔

ریاستی فتوحات اور سوئنگ ریاستوں میں کامیابی
اس انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے سوئنگ ریاستوں میں بھی اہم کامیابیاں حاصل کیں، جن میں جارجیا اور پنسلوینیا شامل ہیں۔ یہ ریاستیں 2020 کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کے زیر کنٹرول تھیں، مگر 2024 میں ٹرمپ نے یہاں برتری حاصل کر کے اپنی پوزیشن کو مضبوط کیا۔ جارجیا میں ٹرمپ نے 50.7 فیصد ووٹ حاصل کیے، جبکہ پنسلوینیا میں ان کا ووٹنگ تناسب 50.8 فیصد رہا۔ ان دونوں ریاستوں میں کامیابی سے ٹرمپ کی جیت میں مزید استحکام آیا۔

امریکی عوام کی حمایت اور مستقبل کی سمت
ٹرمپ نے کہا کہ وہ امریکی معیشت کو نئی بلندیوں پر لے جائیں گے اور ملک کے ہر شہری کو ترقی کے مساوی مواقع فراہم کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ
"امریکا میں سنہری دور کا آغاز ہونے والا ہے، جہاں سب کو خوشحال مستقبل کی ضمانت دی جائے گی۔”
سینیٹ میں بھی ریپبلکنز کو اکثریت حاصل
صدارتی انتخاب کے ساتھ ساتھ امریکی کانگریس میں سینیٹ کے بھی انتخابات ہوئے، جن میں ریپبلکنز نے 100 نشستوں والے سینیٹ میں 51 نشستیں حاصل کر کے اکثریت حاصل کرلی، جبکہ ڈیموکریٹس نے 43 نشستیں جیتیں۔
