پاکستان میں چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے پہلا عدالتی فیصلہ
صوبہ پنجاب کے شہر پھالیہ میں ایک جج نے ریپ کی کوشش کے الزام میں ایک نوجوان ملزم کو قبل از گرفتاری ضمانت دینے کے فیصلے میں مصنوعی ذہانت ( چیٹ جی پی ) کا سہارا لیا ہے۔
جج نے مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر ‘چیٹ جی بی ٹی فور’ سے مدد لینے کو اپنے فیصلے کا حصہ بنایا۔ یہ فیصلہ گزشتہ ماہ 29 مارچ کو پھالیہ کے ایڈیشنل سیشن جج محمد عامر منیر کی عدالت نے جاری کیا تھا۔
پھالیہ وسطی پنجاب کی ایک چھوٹی تحصیل ہے جبکہ اس کا ضلع منڈی بہاؤالدین ہے۔ جج محمد عامر نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ان کے سامنے 13 سالہ بچے کی ضمانت کا کیس آیا۔ بچے پر الزام ہے کہ اس نے نو سالہ لڑکے سے زیادتی کی کوشش کی تھی۔ فریقین کو تفصیل سے سننے کے بعد عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ بچے کی ضمانت قبل از گرفتاری کی جائے کیونکہ کیس میں کئی قانونی نقائص ہیں۔
جج نے لکھا کہ کیس کے معروضی حالات کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر ‘چیٹ جی پی ٹی 4’ کی مدد لینے کا فیصلہ کیا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں قانونی تحقیقات میں کس طرح مدد کر سکتی ہے۔ کیونکہ کئی ممالک میں روبوٹس کو قانونی مشورے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
پھالیہ کی سیشن عدالت کے جج محمد عامر منیر کی جانب سے فیصلے میں لکھا گیا کہ اس موقع پر چیٹ جی پی ٹی سے مدد لینے کا سوچا۔ تاہم، یہ تجرباتی طور پر کیا گیا کیونکہ عدالت پہلے ہی معروضی حقائق پر بچے کو ضمانت دینے کا فیصلہ کر چکی تھی۔
جج نے چیٹ جی پی ٹی سے پہلے سوال میں پوچھا کہ پاکستان میں ایک نابالغ ملزم بچہ جس کی عمر 13 سال ہو، کیا اسے گرفتاری کے بعد ضمانت مل سکتی ہے؟ تو مصنوعی چیٹ ‘جی پی ٹی’ نے جواب دیا کہ جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018 اس وقت پاکستان میں سیکشن 12 کے تحت نافذ ہے جس کی ضمانت عدالت سے مشروط طور پر لی جا سکتی ہے۔ تاہم 13 سالہ ملزم کو گرفتاری کے بعد ضمانت مل جائے گی یا نہیں اس کا حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔
انہوں نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس سافٹ ویئر سے سوال کیا کہ اگر اسے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 83 کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو کیا ہوگا؟
چیٹ جی پی ٹی نے جواب دیا کہ پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 83 کے مطابق سات سال تک کے بچے کے ذریعے کیے گئے جرم کو شمار نہیں کیا جائے گا اور 12 سال کی عمر تک کے بچے کو جرم کرنے کے قابل نہیں سمجھا جائے گا، لیکن اس شق کا اطلاق عدالت کی صوابدید پر ہوگا۔
یہاں کے جج نے کو بتایا کہ پاکستان پینل کوڈ میں ترمیم کی گئی ہے اور 14 سال تک کی عمر کے بچے کے جرم کا تعین عدالت کے جائزے پر منحصر ہے۔ چیٹ جی بی ٹی نے تصحیح کے لیے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں عمر کی حد میں 2016 میں ترمیم کے ذریعے اضافہ کیا گیا تھا۔
ایڈیشنل سیشن جج عامر منیر نے ‘چیٹ جی پی ٹی’ سے کل 18 سوالات پوچھے جہاں انہوں نے دو مقامات پر تصحیح کی جسے چیٹ بوٹ نے تسلیم کیا اور معافی مانگی۔
آخر کار جب انہوں نے سماعت کے دوران ‘چیٹ جی پی ٹی’ کے سامنے کیس کے حقائق رکھے اور ان کی رائے پوچھی کہ کیا 13 سالہ لڑکے کو ضمانت قبل از گرفتاری ملنی چاہیے یا نہیں؟ تو جواب میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ عدالت نے کرنا ہے تاہم جو حقائق بتائے جارہے ہیں ان میں قانونی طور پر ضمانت لی جاسکتی ہے۔
آخر میں جج نے لکھا کہ ضمانت کا فیصلہ عام طور پر اتنا طویل نہیں ہوتا تھا لیکن ٹیکنالوجی کے استعمال کی وجہ سے پوری بحث لکھنا ضروری تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کی کاپی لاہور ہائی کورٹ کو بھی بھجوائی جارہی ہے تاکہ مستقبل میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے وقت اور وسائل کے ضیاع کو کم کیا جاسکے۔
