حکومت سے مذاکرات، اپوزیشن نے عمران خان سے ملاقات کو بنیادی شرط بنا دیا
اسلام آباد: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی کم کرنے اور معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے چیمبر میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں، تاہم اپوزیشن نے واضح کیا ہے کہ بات چیت کو آگے بڑھانے کے لیے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات ضروری ہے۔
اپوزیشن کے وفد میں بیرسٹر گوہر علی خان، اسد قیصر، سلمان اکرم راجا، عامر ڈوگر اور سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس شامل ہیں، جبکہ حکومت اور اتحادی جماعتوں کی جانب سے وزیر داخلہ محسن نقوی، رانا ثناء اللہ، امیر مقام، شیری رحمٰن، نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی سمیت دیگر رہنما مذاکرات میں شریک ہیں۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں 4 اکتوبر کے مجوزہ لانگ مارچ، خیبر پختونخوا کی صورتحال، سیاسی کشیدگی اور بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات سمیت دیگر سیاسی امور زیر بحث ہیں۔ پی ٹی آئی نے پہلے ہی عندیہ دیا ہے کہ مذاکرات میں پیش رفت کی صورت میں احتجاج کے آئندہ لائحہ عمل پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجا کا کہنا ہے کہ اپوزیشن عمران خان سے ملاقات اور ان سے مشاورت چاہتی ہے، جبکہ اسد قیصر کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد ہی مذاکرات کا ایجنڈا طے کرکے آئندہ پیش رفت کی جائے گی۔
دوسری جانب علامہ راجا ناصر عباس نے بھی عمران خان سے ملاقات کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ محمود خان اچکزئی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا معاملہ بھی مذاکرات میں اٹھایا جائے گا۔
محمود اچکزئی اسپیکر چیمبر جانے سے انکار
دریں اثنا قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اسپیکر چیمبر میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت سے انکار کردیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ وہ حکومت سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم ملاقات اسپیکر یا وزیراعظم کے دفتر میں نہیں بلکہ کسی غیر جانب دار مقام پر ہونی چاہیے۔
محمود اچکزئی نے اس سے قبل یہ بھی کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات سے پہلے وہ عمران خان سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔
حکومت کا مؤقف
حکومتی نمائندوں کی جانب سے مذاکرات کو سیاسی مسائل کے حل کا راستہ قرار دیا گیا ہے۔ وزیر مملکت طارق فضل چوہدری نے کہا کہ گفتگو شروع ہوچکی ہے اور دونوں فریق کوشش کررہے ہیں کہ آج کوئی نتیجہ سامنے آئے۔
وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی نے بھی پی ٹی آئی سے مذاکرات کے لیے مشترکہ وفد تشکیل دیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات میں سیاسی صورتحال اور خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اپوزیشن سے مذاکرات کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
لانگ مارچ کا فیصلہ مذاکرات کی پیش رفت سے جڑا
پی ٹی آئی کا 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب مجوزہ لانگ مارچ فی الحال شیڈول کے مطابق ہے۔ پارٹی کی جانب سے مذاکرات میں پیش رفت کو آئندہ احتجاج کے لائحہ عمل سے جوڑا گیا ہے، جبکہ حکومت بھی احتجاج سے قبل سیاسی حل تلاش کرنے کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔
