اسلام آباد کے راستوں کی بندش، کراچی پورٹ پر کنٹینرز جمع، مال بردار گاڑیوں کی روانگی متاثر
اسلام آباد جانے والے اہم زمینی راستوں پر کنٹینرز اور دیگر رکاوٹوں کے باعث پاکستان میں مال بردار ٹرانسپورٹ کا نظام متاثر ہونے لگا ہے، جس کے نتیجے میں کراچی پورٹ سے ملک کے مختلف حصوں تک سامان کی ترسیل میں مشکلات اور اضافی اخراجات کا سامنا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کی جانب جانے والے بعض راستوں پر کنٹینرز کو سڑکوں کی بندش اور رکاوٹ کے لیے استعمال کیے جانے سے متاثر ہوئی ہے۔ اس صورتحال کا براہ راست اثر بندرگاہ سے نکلنے والے مال بردار ٹرکوں، کنٹینرز اور دیگر گاڑیوں کی نقل و حرکت پر پڑ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ستمبر کے دوران 2 ہزار سے زائد گاڑیاں مختلف مقامات پر سکیورٹی اور دیگر انتظامی مقاصد کے لیے طلب کی گئیں۔ بڑی تعداد میں گاڑیوں کی اس طرح کی تعیناتی نے معمول کی تجارتی نقل و حمل پر بھی دباؤ بڑھایا، جبکہ ٹرانسپورٹ آپریٹرز کے اخراجات میں اضافہ ہوا۔
پاکستان کی درآمدات اور برآمدات کا ایک بڑا حصہ کراچی کی بندرگاہوں سے منسلک ہے۔ بندرگاہ سے نکلنے والا سامان سڑکوں کے ذریعے ملک کے مختلف صنعتی اور تجارتی مراکز تک پہنچایا جاتا ہے۔ ایسے میں اہم شاہراہوں پر رکاوٹ یا آمدورفت میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہونے سے سپلائی چین کے مختلف مراحل متاثر ہوسکتے ہیں۔
ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں اضافے کا اثر صرف مال بردار کمپنیوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات کاروباری اداروں، صنعتوں اور بالآخر عام صارفین تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ سامان کی ترسیل میں تاخیر کے باعث کمپنیوں کو اضافی اسٹوریج، ڈرائیور اور گاڑیوں کے اخراجات برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں، جبکہ بعض اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان پہلے ہی مہنگی توانائی، ایندھن کے اخراجات اور کاروباری لاگت کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ ٹرانسپورٹ سیکٹر میں مزید اخراجات پیدا ہونے سے درآمدی خام مال، صنعتی مصنوعات اور مارکیٹ تک پہنچنے والی اشیا کی مجموعی لاگت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
کراچی سے ملک کے دیگر شہروں تک کنٹینرز کی بروقت نقل و حرکت صنعتی سرگرمیوں کے لیے بھی اہم ہے۔ خاص طور پر ایسی صنعتیں جو درآمدی خام مال یا مشینری پر انحصار کرتی ہیں، ان کے لیے سپلائی میں تاخیر پیداوار اور ترسیل کے شیڈول کو متاثر کرسکتی ہے۔
ٹرانسپورٹرز کے لیے ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ راستوں کی بندش یا اچانک تبدیلی کی صورت میں انہیں متبادل راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں، جس سے سفر کا دورانیہ اور ایندھن دونوں بڑھ جاتے ہیں۔ اگر ایسی صورتحال طویل ہوتی ہے تو اس کے اثرات ملک کی مجموعی سپلائی چین پر زیادہ نمایاں ہوسکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق تجارتی سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے اہم شاہراہوں پر مال بردار گاڑیوں کی بلا تعطل نقل و حرکت ضروری ہے۔ موجودہ صورتحال میں ٹرانسپورٹ آپریٹرز اور کاروباری حلقوں کی توجہ اضافی اخراجات اور سامان کی بروقت ترسیل کے مسائل کی جانب ہے۔
پاکستان میں سڑکوں کے ذریعے مال برداری کا نظام بندرگاہوں، صنعتوں، منڈیوں اور صارفین کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔ اس لیے شاہراہوں پر پیدا ہونے والی طویل رکاوٹیں محض ٹریفک کا مسئلہ نہیں رہتیں بلکہ ان کے اثرات تجارت، کاروبار اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
